سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 133 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 133

سیرت المہدی 133 حصہ چہارم تفصیل اس کی یہ ہے کہ یکم محرم 1ھ بروز جمعہ سے لے کر۴ اشوال ۱۲۵۰ھ تک کے دن مذکور بالا اوسط کی رو سے ۴۴۲۸۸۳ ہوئے۔جو سات پر پورے تقسیم ہوتے ہیں۔جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ۱۴ شوال ۱۲۵۰ ھ کو بھی جمعہ ہی کا دن تھا کیونکہ اس عرصہ کے کل قمری مہینے ۱۴۹۹۷ ہوتے ہیں۔اور جب اس عدد کو مذکورہ بالا اوسط ماہانہ سے ضرب دی جائے تو حاصل ضرب ۷۰ ۴۴۲۸ ہوتا ہے۔اور جب اس میں یکم شوال کے اوپر کے ۳ ا دن جمع کئے جائیں تو جیسا کہ اوپر بھی بیان کیا گیا ہے تو ۱۴شوال تک کے کل دنوں کی تعداد ۴۴۲۸۸۳ ہوتی ہے۔اور یہ عدد سات پر پورا تقسیم ہوتا ہے۔پس جو دن یکم محرم ا ھ کو تھا وہی دن ۱۴ رشوال ۱۲۵۰ ہجری کو تھا۔سو چونکہ یکم محرم ار ہجری کو جمعہ کا دن تھا اس لئے ۱۴ رشوال ۱۲۵۰ ہجری کو بھی جمعہ ہی تھا۔نیز ۱۳ / فروری ۱۸۳۵ عیسوی بروز جمعہ کو قمری تاریخ ۴ ارشوال ۱۲۵۰ ہجری کا ہونا حسابی طریق سے بھی ثابت ہے۔کیونکہ قمری مہینہ کا اوسط ۶۵۳۰۵۸۸۷۱۵ ۲۹ دن یعنی ۲۹ دن ۱۲ گھنٹے ۴۴ منٹ ۶۲۵۰۰ : ۶۱ ۴۰ ۲٫۵ ہوتی ہے۔اور یہ یکم شوال ۱۲۵۷ ہجری سے لے کر یکم شوال ۱۳۵۷ھ تک کا عرصہ ۱۲۸۴ ماہ کا ہوتا ہے۔جسے مذکورہ بالا اوسط میں ضرب دینے سے حاصل ضرب ۳۷۹۱۷۶۲۷۵۹۱۰۰۶ ( دن ) ہوتا ہے۔جس کی اعشاریہ کی کسر کو ( جو اس قابل نہیں کہ اسے ایک دن شمار کیا جائے ) چھوڑ کر باقی رقم کو ہفتہ کے دنوں کے عدد یعنی سات پر تقسیم کرنے سے پانچ دن باقی بچتے ہیں۔یعنی عرصہ ۵۴۱۵ ہفتہ اور پانچ دن کا ہوتا ہے۔اور یہ یقینی بات ہے کہ یکم شوال ۱۳۵۷ھ کا یعنی سال رواں کا عید الفطر کا دن پنج شنبہ تھا اور جب ہم پنج شنبہ سے پانچ دن پیچھے جائیں تو شنبہ یعنی ہفتہ کا دن ہوتا ہے۔پس یکم شوال ۱۲۵۰ھجری کو ہفتہ کا دن تھا۔اس لئے ۱۴ رشوال ۱۲۵۰ ہجری کو جمعہ کا دن تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ الفضل مورخہار اگست ۱۹۳۶ء میں میرا جو مضمون شائع ہوا تھا وہ روایت نمبر ۶۱۳ میں درج ہے۔جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تاریخ پیدائش بروز جمعہ ۱۴رشوال ۱۲۵۰ هجری بمطابق ۱۳ فروری ۱۸۳۵ عیسوی مطابق یکم پھا گن ۱۸۹۱ بکرمی ثابت کی گئی ہے۔1172 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔پیر منظور محمد صاحب نے بواسطہ مولوی عبد الرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دن عصر کے وقت میں پروف یا کاپی لے کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے