سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 132
سیرت المہدی 132 حصہ چہارم محمد اسماعیل صاحب فاضل پروفیسر جامعہ احمدیہ مجھ سے بیان کیا کہ ۹۹۔۱۸۹۸ء کے قریب ایک دفعہ میں قادیان میں رمضان شریف کے مہینہ میں بیمار ہو گیا اور روزے نہ رکھ سکا۔میرا مکان اس وقت ڈھاب کے کنارے پر تھا۔مجھے معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیر کے طور پر وہاں ڈھاب کے کنارہ پر تشریف فرما ہیں۔مجھے کمزوری تو بہت تھی۔مگر میں افتان و خیزاں حضور تک پہنچا۔اور افسوس کے ساتھ عرض کیا کہ میں بیماری کی وجہ سے اس دفعہ روزے نہیں رکھ سکا۔حضور نے فرمایا۔آپ کو دو گنا ثواب ملے گا۔میں نے عرض کیا کہ وہ کیسے۔حضور نے فرمایا کہ ایک تو اس بات کا ثواب کہ آپ بیماری کی حالت میں دعائیں کرتے رہتے ہیں۔اور دوسرے جب دوسرے دنوں میں آپ روزے رکھیں گے تو اس کا ثواب ہو گا۔1171 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی محمد اسماعیل فاضل پروفیسر جامعہ احمد یہ قادیان نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے رسالہ توفیقات قمریہ میں جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سن پیدائش سے لے کر چودھویں صدی کے آخر تک شمسی اور قمری تاریخوں کا مقابلہ کیا ہے ، موٹے طور پر ان تین باتوں کو پیش نظر رکھا ہے۔(1) قمری مہینہ کی اوسط مقدار ۲۹ دن ۱۲ گھنٹے ۴۴ منٹ اور قریباً ۶/۷ ۲سکینڈ (۲۹۸۶۴۹۷۶سکینڈ) ہوتی ہے اور جو فرق تدریجی طور پر چاند کی رفتار میں نمودار ہو رہا ہے وہ اس اندازہ پر چنداں اثر انداز نہیں۔(۲) یکم محرم 1 ھ کا دن جمعہ تھا۔جیسا کہ محمد مختار باشا مصری کی کتاب توفیقات الہامیہ سے اور مغربی مصنفین کے شائع کردہ دیگر تقویمی نقشوں سے ظاہر ہوتا ہے۔محمد مختار باشا اپنی کتاب مذکور کے مقدمہ میں لکھتے ہیں کہ اقوال شرعیہ اور حسابی طریق سے یقینی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ یکم محرم 1 ھ کو جمعہ کا دن تھا۔(۳) یہ تقویمی نقشه مختلف واقعات زمانہ گذشتہ و زمانہ حال کی معین طور پر معلوم تاریخوں کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیدائش کے دن پر جو نوٹ لکھ کر الفضل مورخہ ۱۱ار اگست ۱۹۳۶ء میں شائع کروایا تھا۔اپنے سامنے رکھ کر بھی میں نے اس تقویمی نقشہ کو دیکھا ہے اور اس کے مطابق پایا ہے۔