سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 128 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 128

سیرت المہدی 128 حصہ چہارم طرف آئے۔والد صاحب راستے میں ہی بگھی کا انتظام کر کے اس کو ساتھ لے گئے۔حضور اس وقت اندر تشریف فرما تھے۔والد صاحب نے ڈیوڑھی کے دروازے پر دستک دی اور حضور باہر تشریف لے آئے اور مسکرا کر فرمانے لگے۔میاں عبد اللہ کیا ہے۔والد صاحب نے عرض کی۔حضور مکان تک تشریف لے چلیں۔حضور نے فرمایا اچھا سواری کا انتظام کرو۔والد صاحب نے عرض کی کہ سواری تیار ہے۔چنانچہ حضور بگھی میں بیٹھ گئے۔اور ہم سب ماموں صاحب کے مکان پر پہنچ گئے۔ماموں صاحب نے کچھ پھل پیش کئے۔والد صاحب نے ماموں صاحب سے وہ۔۲۵ روپیہ لے کر پھلوں میں رکھ دیئے۔اس وقت کئی مستورات نے بیعت کی۔دعا کے بعد حضور اپنی قیام گاہ پر واپس تشریف لے گئے۔اس وقت لوگوں کو معلوم ہوا کہ حضرت صاحب میاں عبد اللہ سنوری کے ساتھ مکان پر گئے تھے۔اور حضور کے تشریف لے جانے میں تعجب کرتے رہے۔کیونکہ تشریف لے جاتے وقت کسی کو بھی خبر نہ تھی۔زمانہ گذر گیا۔لیکن جس سادگی کے ساتھ حضور دستک دینے پر تشریف لائے تھے۔اس کا ایک گہرا اثر اس وقت میرے دل پر ہے۔1165 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں رحمت اللہ صاحب ولد میاں عبداللہ صاحب سنوری نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میں ایک دفعہ بہت سخت بیمار ہو گیا۔ڈاکٹروں اور حکیموں نے جواب دے دیا کہ اب یہ صرف چند دن کا مہمان ہے کسی دوائی کے بدلنے کی ضرورت نہیں۔والد صاحب مرحوم نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں ایک عریضہ لکھا کہ اگر خدانخواستہ کوئی ایسی ویسی بات ہوگئی تو مجھے نصیحت فرمائیں کہ میں اس وقت اپنی حالت کیسی رکھوں حضور کے دست مبارک سے لکھا ہوا جواب پہنچ گیا۔کہ اگر یہ موت نہ ہوئی تو میری دعا قبولیت کو پہنچ گئی۔کیونکہ دعا کرنے کے بعد یہ خط لکھا ہے۔حضور کا یہ خط ابھی سنور پہنچا نہ تھا کہ رات کو مجھے آرام سے نیند آ گئی کہ گویا میں بیمار ہی نہ تھا۔صبح کو والد صاحب نے میری حالت کی بابت دریافت کیا۔میں نے کہا کہ میری حالت بہت اچھی ہے۔کوئی تکلیف نہیں۔والد صاحب مرحوم نے جوش کے ساتھ فرمایا۔کہ رحمت اللہ گواہ رہنا۔آج کا دن یا درکھنا۔حضرت صاحب نے تمہارے لئے دعا کر دی ہے۔یہ اسی کا نتیجہ ہے۔ڈاکٹر و حکیم نے قارورہ دیکھ کر کہا کہ یہ کسی مریض کا نہیں بلکہ یہ تو بالکل تندرست آدمی کا قارورہ ہے اور وہ بہت حیران تھے۔کہ ایک دن میں ایسی حالت کا تغیر کیسے ہو گیا۔