سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 129 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 129

سیرت المہدی 129 حصہ چہارم حضور کا جب خط آیا تو ہفتہ کے روز کی تاریخ کا تھا۔اور مجھے ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب کو کلی طور پر صحت ہو گئی تھی۔میں حضور کی دعا کی قبولیت کا زندہ نشان ہوں۔افسوس حضرت اقدس کا یہ خط اور واسکٹ کا ٹکڑا جو میں نے تبر گا رکھے ہوئے تھے، گم ہو گئے ہیں۔1166 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میرے کئی خواب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب ازالہ اوہام کے کئی اوراق پر اپنے قلم سے درج فرمائے تھے۔ایک دفعہ کسی شخص نے غالباً مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی کے مریدوں میں سے کسی نے اشتہار دیا اور اس میں اپنے خواب اور کشوف درج کئے۔اس پر حضرت صاحب نے مجھے رقم فرمایا کہ آپ نے جو خواب دیکھتے ہیں وہ اس کے جواب میں آپ اشتہار کے طور پر شائع کریں۔چنانچہ آپ کے فرمودہ کے مطابق میں نے اشتہار شائع کر دیا جس کی سرخی یہ تھی۔الااے بلبل نالاں چہ چندین ماجرا داری بیا داغے کہ من درسینه دارم تو کجا داری وہ خواب جہاں تک مجھے یاد ہیں حسب ذیل تھے۔(1) بیعت اولی کے موقعہ پر جب میں لدھیانہ میں تھا تو ایک صوفی نے حضور سے دریافت کیا کہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت بھی کرا سکتے ہیں؟ اور آپ نے فرمایا کہ اس کے لئے مناسبت شرط ہے اور میری طرف منہ کر کے فرمایا یا جس پر خدا فضل کرے۔مجھے اُسی رات خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت ہوئی۔(۲) اس کے بعد یہ سلسلہ جاری ہو گیا۔ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خواب میں زیارت ہوئی۔حسو خاں احمدی جو پہلے وہابی تھا اس کو دیکھا کہ وہ بھی کھڑا ہے۔اور اس نے شکایتاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ یہ (یعنی خاکسار ) یا رسول اللہ ! آپ کی حدیثوں کو نہیں مانتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مرزا صاحب میرے فرزند ہیں۔اور جب وہ قرآن پڑھتے ہیں۔میری روح تازہ ہو جاتی ہے اور میری طرف منہ کر کے فرمایا کہ مرزا صاحب سے کہیں کہ وہ کچھ قرآن شریف سنا ئیں۔پھر