سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 127
سیرت المہدی 127 حصہ چہارم رہنے دینا ہے؟ فرمایا کہ اس میں آزادی ہے۔آپ ایک ایک دو ماہ ٹھہر جاتے ہیں۔پھر خود بخودہی فرمایا کہ ایسا ہو کہ منشی اروڑ صاحب کہیں اور چلے جائیں ( مطلب یہ کہ کسی اور آسامی پر ) اور آپ اُن کی جگہ سر رشتہ دار ہوجائیں۔اس سے کچھ مدت بعد جبکہ حضور علیہ السلام کا وصال ہو چکا تھا۔منشی اروڑا صاحب تو نائب تحصیلدار ہو کر تحصیل بھونگہ میں تعینات ہو گئے اور میں ان کی جگہ سررشتہ دار ہو گیا۔پھر منشی صاحب مرحوم نائب تحصیلداری سے پنشن پا کر قادیان جارہے۔اور میں سررشتہ داری سے رجسٹراری ہائی کورٹ تک پہنچا اوراب پینشن پاتا ہوں۔بہت دفعہ ہم نے دیکھا کہ حضور نے بغیر دعا کے کوئی بات فرما دی ہے اور پھر وہ اُسی طرح وقوع میں آگئی ہے۔1163 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میں قادیان میں مسجد مبارک سے ملحق کمرے میں ٹھہرا کرتا تھا۔میں ایک دفعہ سحری کھا رہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لے آئے۔دیکھ کر فرمایا۔آپ دال سے روٹی کھاتے ہیں؟ اور اسی وقت منتظم کو بلوایا اور فرمانے لگے کہ آپ سحری کے وقت دوستوں کو ایسا کھانا دیتے ہیں؟ یہاں ہمارے جس قد را حباب ہیں وہ سفر میں نہیں۔ہر ایک سے معلوم کرو کہ اُن کو کیا کیا کھانے کی عادت ہے اور وہ سحری کو کیا کیا چیز پسند کرتے ہیں۔ویسا ہی کھانا ان کے لئے تیار کیا جائے۔پھر منتظم میرے لئے اور کھانا لا یا مگر میں کھانا کھا چکا تھا اور اذان بھی ہو گئی تھی۔حضور نے فرمایا کھا لو۔اذان جلد دی گئی ہے اس کا خیال نہ کرو۔1164 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں رحمت اللہ صاحب ولد میاں عبداللہ صاحب مرحوم سنوری نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ماموں قادر بخش صاحب مرحوم ( والد مکرم مولوی عبد الرحیم صاحب درد) نے والد صاحب مرحوم سے بہت خواہش کی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہمارے گھر لائیں۔والد صاحب نے جواب دیا کہ حضرت صاحب نے مکان پر جانے سے کئی ایک کو جواب دے دیا ہے۔ماموں صاحب نے پھر کہا۔والد صاحب نے جواب دیا کہ اچھا ہم لے آتے ہیں۔مگر۔۲۵ روپیہ لوں گا۔ماموں صاحب نے خوشی سے۔۲۵ روپے دینے منظور کرلئے۔والد صاحب مرحوم نے فرمایا کہ اچھا۔حضور کے بیٹھنے کی جگہ سے۔کا انتظام کرو۔میں جاتا ہوں۔چنانچہ میں اور والد صاحب ماموں صاحب کے مکان سے اُٹھ کر شہر کی