سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 126
سیرت المہدی 126۔حصہ مه چهارم تھے۔میں اس کو اپنی نہایت ہی خوش قسمتی سمجھتا ہوں۔اللہ تعالیٰ کا شکر یہ ادا کرتا ہوں۔نکاح تو حضور نے کئی ایک کے پڑھائے ہوں گے لیکن اس طرح کا معاملہ شاید ہی کسی اور سے ہوا ہو۔سب کچھ والد صاحب مرحوم و مغفور پر حضرت اقدس کی خاص شفقت کا نتیجہ تھا۔اس کا مفصل ذکر حضرت خلیفہ اول کے خطبہ نکاح میں درج ہے جو اخبار بدر میں شائع ہو چکا ہے۔1161 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میری اہلیہ تو میرٹھ گئی ہوئی تھی۔گھر خالی تھا۔تین دن کی تعطیل ہوگئی۔دیوانی مقدمات کی مسلیں صندوق میں بند کر کے قادیان چلا گیا۔وہاں پر جب تیسرا دن ہوا تو میں نے حضور کی خدمت میں عرض کی۔کہ حضور تعطیلیں ختم ہوگئی ہیں۔اجازت فرما ئیں۔آپ نے فرمایا۔ابھی ٹھہر وہ تھوڑے دنوں کے بعد منشی اروڑے صاحب کا خط آیا کہ مجسٹریٹ بہت ناراض ہے۔مسلیں ندارد ہیں تم فوراً چلے آؤ۔مجھے بہت کچھ تاکید کی تھی۔میں نے وہ خط حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کر دیا۔آپ نے فرمایا۔لکھ دو۔ابھی ہمارا آنا نہیں ہوتا۔میں نے یہی الفاظ لکھ دیئے کہ انہی میں برکت ہے۔پھر میں ایک مہینہ قادیان رہا۔اور کپورتھلہ سے جو خط آتا۔میں بغیر پڑھے پھاڑ دیتا۔ایک مہینہ کے بعد جب آپ سیر کو تشریف لے جانے لگے تو مجھے فرمانے لگے کہ آپ کو کتنے دن ہو گئے۔میں نے کہا حضور ایک ماہ کے قریب ہو گیا ہے۔تو آپ اس طرح گننے لگے۔ہفتہ ہفتہ آٹھ اور فرمانے لگے۔ہاں ٹھیک ہے۔پھر فرمایا۔اچھا اب آپ جائیں۔میں کپورتھلہ آیا اور عملہ والوں نے بتایا کہ مجسٹریٹ بہت ناراض ہے۔میں شام کو مجسٹریٹ کے مکان پر گیا کہ وہاں جو کچھ اس نے کہنا ہوگا وہ کہہ لے گا۔اس نے کہا آپ نے بڑے دن لگائے اور اس کے سوا کوئی بات نہ کہی۔میں نے کہا کہ حضرت صاحب نے آنے نہیں دیا۔وہ کہنے لگا ان کا حکم تو مقدم ہے۔تاریخیں ڈالتا رہا ہوں۔مسلوں کو اچھی طرح دیکھ لینا اور بس۔میں ان دنوں ایک سررشتہ دار کے عوض کام کرتا تھا۔1162 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں اور منشی اروڑا صاحب مرحوم قادیان گئے۔منشی اروڑا صاحب اس وقت ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے سررشتہ دار تھے۔اور میں اپیل نویس تھا۔باتوں باتوں میں میں نے عرض کی کہ حضور مجھے اپیل نویس ہی