سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 122
سیرت المہدی 122 حصہ چہارم عربی کتب تھیں۔ایک جگہ میں نے دیکھا کہ متکلمین کی کتابیں اوپر نیچے رکھی تھیں۔سب سے اوپر براہین احمدیہ تھی۔اس کے نیچے حجتہ اللہ البالغہ شاہ ولی اللہ صاحب اور اس کے نیچے اور کتا بیں تھیں۔میں نے آپ سے دریافت کیا کہ آیا یہ ترتیب اتفاقی ہے یا آپ نے مدارج کے لحاظ سے لگائی ہے۔آپ نے فرمایا میں نے اپنے خیال میں درجہ وار لگائی ہے۔پھر مجھے الماری کے نیچے مولوی صاحب کے دستخطی کچھ عربی میں لکھے ہوئے کاغذ ملے جو پھٹے ہوئے تھے ، میں وہ نکال کر پڑھنے لگا۔آپ نے منع فرمایا۔میں نے کہا کہ قرآن شریف کی تفسیر معلوم ہوتی ہے۔فرمانے لگے۔کیا پوچھتے ہو۔میں نے منطق الطیر کی تفسیر کی تھی۔نہایت ذوق وشوق میں۔اور میں سمجھتا تھا کہ میں اس مسئلے کو خوب سمجھا ہوں۔لیکن کل حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے منطق الطیر پر تقریر فرمائی۔تو میں بہت شرمندہ ہوا اور میں نے آکر یہ مضمون پھاڑ ڈالا اور اپنے آپ کو کہا کہ تو کیا جانتا ہے۔1155 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام جالندھر میں قیام پذیر تھے۔تو میں اوپر کوٹھے پر گیا۔حضور تنہائی میں بہت لمبی نماز پڑھتے تھے اور رکوع سجود لمبے کرتے تھے۔ایک خادمہ غالبامائی تابی اس کا نام تھا جو بہت بڑھی تھی۔حضور کے برابر مصلے پر کھڑے ہو کر نماز پڑھ کر چلی گئی۔میں دیر تک بیٹھا رہا۔جب حضور نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے یہ مسئلہ پوچھا۔کہ عورت مرد کے ساتھ کھڑی ہو کر نماز پڑھ سکتی ہے یا پیچھے۔حضور نے فرمایا۔اُسے پیچھے کھڑا ہونا چاہئے۔میں نے کہا حضور تا بی تو ابھی حضور کے برابر نماز پڑھ کر چلی گئی ہے۔آپ نے فرمایا کہ ہمیں تو خبر نہیں۔وہ کب کھڑی ہوئی اور کب چلی گئی۔1156 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ منشی اروڑ ا صاحب کے پاس کپورتھلہ میں خط آیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر مقد مقتل بن گیا ہے۔وہ فوراً روانہ بٹالہ ہو گئے اور ہمیں اطلاع تک نہ کی۔میں اور محمد خان صاحب تعجب کرتے رہے کہ منشی صاحب کہاں اور کیوں چلے گئے ہیں۔ہمیں کچھ گھبراہٹ سی تھی۔خیر اگلے دن میں قادیان جانے کے ارادہ سے روانہ ہو گیا۔بٹالہ جا کر معلوم ہوا کہ حضرت صاحب یہاں تشریف رکھتے ہیں۔اور مارٹن کلارک والا مقدمہ بن گیا