سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 100
سیرت المہدی 100 حصہ چہارم میں ڈکیتیوں کا بڑا زور تھا اور اس قسم کی وارداتوں کی کثرت تھی۔دن رات اونٹوں پر سفر کرنا پڑتا تھا۔چونکہ وہ علاقہ تو سخت گرم اور ریگستان ہے اس لئے سفر میں پانی بھی زیادہ پیا جا تا تھا۔اور بعض اوقات اونٹ کے سفر میں یہ بے احتیاطی بھی ہو جاتی کہ تعجیل کی وجہ سے اگر اونٹ کو بٹھانے میں دیر لگی تو جھٹ اوپر سے ہی چھلانگ دی۔اس وقت کی عمر کا تقاضا بھی یہی تھا۔ہنچوں قسم کی بے احتیاطی سے خاکسار کو مرض ہر نیا لاحق ہو گیا تھا۔اور شروع میں تو اسے ریحی تکلیف خیال کیا گیا کیونکہ جب سواری سے اُترتے اور لیٹتے تو افاقہ معلوم ہوتا تھا۔مگر ایک ڈاکٹر صاحب کو دکھانے کا موقعہ ملا۔تو انہوں نے کمپلیٹ ہر نیا تجویز اور تشخیص کیا۔اور جلد سے جلد آپریشن بطور علاج تجویز کیا۔خاکسار نے حضرت مولانا مولوی نور الدین صاحب کی خدمت میں ایک عریضہ بھیج کر استصواب کیا۔مولوی صاحب موصوف نے ایک کارڈ پر یہ جواب تحریر فرمایا کہ اگر مرض ہر نیا تحقیق ہوا ہے تو پھر آپریشن کے سوا اس کا کوئی علاج نہیں۔لیکن ہماری رائے یہ ہے کہ آپریشن سے پہلے ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب سے معائنہ کروالیا جائے۔ڈاکٹر صاحب اول تو تم سے واقف ہوں گے اگر تعارفی تحریر کی ضرورت ہو تو یہی ہمارا کارڈ ان کو دکھا دیں۔چنانچہ حسب رائے حصہ مولوی صاحب میں لاہور میں ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب کے پاس حاضر ہوا۔ڈاکٹر صاحب مرحوم نے بڑے اخلاق اور توجہ سے معائنہ فرمایا اور مکمل مرض ہر نیا تشخیص کر کے آپریشن کے سوا کوئی اور علاج نہ تجویز فرمایا۔چونکہ خاکسار اس دوران میں ٹرس پیٹی اس مرض میں احتیاط کے لئے استعمال کرنے لگ گیا تھا ڈاکٹر صاحب نے تاکید فرمائی۔کہ رات کے سونے کے وقت کے علاوہ ٹرس کا استعمال ہر وقت چلتے پھرتے ضروری ہے۔اور آپریشن جلد کرایا جائے ورنہ بعض الجھنیں پڑ جانے پر آپریشن نا کامیاب ہوگا اور یہ چنداں خطر ناک بھی نہیں ہے۔گھوڑے کی سواری، چھلانگ مارنے اور دوڑ کر چلنے ، بلندی سے کودنے کی ممانعت فرمائی۔اس سے قبل خاکسار کا تبادلہ سب انسپکٹری بٹھنڈہ سے کورٹ انسپکٹری بسی پر ہو چکا تھا۔اس لئے کوئی فوری اندیشہ نہ تھا۔خاکسار نے ڈاکٹر صاحب سے فیس وغیرہ مصارف آپریشن دریافت کر کے بعد انتظام آپریشن کا ارادہ کر کے لاہور سے واپس ہوا۔واپسی کے موقعہ پر قادیان آیا اور حضرت مولوی صاحب سے کل کیفیت اور ڈاکٹر صاحب کے مشورہ کا ذکر کیا۔جس کو سن کر مولوی صاحب نے فرمایا کہ ہم نے تو پہلے ہی