سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 99 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 99

سیرت المہدی 99 حصہ چہارم چبایا نہ جا سکا۔مگر اس باورچی کی تعریف فرمائی کہ آپ نے بہت عمدہ پکایا۔میں نے کہا کہ یہ نہ تو کاٹا جاتا ہے اور نہ ہی چبایا جاتا ہے۔گھی بھی ضائع کر دیا۔فرمانے لگے منشی صاحب! آپ کو علم نہیں۔انگریز ایسا ہی کھاتے ہیں اور ان کے نقطہ خیال سے بہت اعلیٰ درجہ کا پکا ہوا ہے۔مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم ہنسنے لگے۔اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ ٹھیک نہیں پکایا۔فرمانے لگے کہ نہیں نہیں آپ نے نہیں جانتے۔فرمایا کہ آپ کوئی اور چیز مہمانوں کے لئے تیار کریں۔باور چی موجود ہیں۔ان کو آپ بتلاتے جائیں۔اس نے تو شرم کے مارے کوئی چیز تیار کروائی نہیں۔کوئی اور صاحب تھے جن کا نام مجھے یاد نہیں رہا۔انہوں نے بریانی مہمانوں کے لئے پکوائی اور میں نے بہت محظوظ ہو کر کھائی۔حضرت صاحب کی خدمت میں بھی پہنچائی گئی۔آپ نے مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کو اور مجھے بلوایا۔اور فرمایا کہ دیکھو کیسی عمدہ پکوائی ہے۔وہ انگریزی قسم کا کھانا تھا۔جس سے آپ واقف نہ تھے۔یہ دیسی قسم کا کھانا کیسا عمدہ ہے۔حضرت صاحب نے یہی سمجھا کہ اُسی باورچی نے پکوائی ہے۔پھر ہم دونوں نے ظاہر نہیں کیا۔کہ اس نے نہیں پکوائی۔غرض کوئی ناقص شے بھی آپ کی خدمت میں کوئی پیش کرتا تو آپ کی اس کی تعریف فرماتے۔1127 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد اقصیٰ سے ظہر کی نماز پڑھ کر آ رہے تھے تو آپ نے میراں بخش سودائی کے متعلق ایک واقعہ بیان کیا کہ وہ گول کمرے کے آگے زمین پر بیٹھا ہوا تھا۔ایک ہندومست بڑا موٹا ڈنڈا لئے آیا۔میراں بخش اس سے کہنے لگا کہ پڑھ کلمہ اور اس کے ہاتھ سے ڈنڈا لے کر مارا کہ پڑھ کلمہ لا الہ الا اللہ۔اس نے جس طرح میراں بخش نے کہلوایا تھا۔کلمہ پڑھ دیا۔تو اس کو میراں بخش نے ایک دونی دے دی۔فرمایا کہ میں بہت خوش ہوا کہ ایک مسلمان پاگل نے ایک ہندو پاگل کو مسلمان کر لیا۔جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمانوں میں تبلیغی مادہ ضرور ہے۔1128 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔شیخ کرم الہی صاحب پٹیالوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جن ایام میں خاکسار کا تبادلہ صیغہ پولیس میں ہوا اور ماموری تھا نہ بٹھنڈہ میں ہوئی۔علاقہ بٹھنڈہ ریاست پٹیالہ میں جنگل کا علاقہ ہے اور ضلع فیروز پور اور ریاست فرید کوٹ سے سرحدات ملتی ہیں۔ان دنوں ان علاقوں