سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 101
سیرت المہدی 101 حصہ چہارم یہ مشورہ دیا تھا۔کہ آپریشن کرایا جائے۔پھر خاکسار سے دریافت کیا کہ آپریشن کا ارادہ ہے؟ میں نے عرض کی کہ ایک دو ماہ میں موسم بھی آپریشن کے قابل ہو جائے گا۔اور سامان سفر بھی ہو سکے گا۔حضرت مولوی صاحب نے فرمایا کہ آپریشن سے قبل حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ذکر کر کے ضرور دُعا کروائی جائے۔اب چونکہ آئے ہوئے ہو کیوں نہ حضرت صاحب سے ذکر کر لیا جائے۔میں نے عرض کیا کہ اگر موقعہ میسر آیا تو عرض کرنے کی کوشش کروں گا۔اُسی روز شام کے وقت بعد نماز مغرب حضرت صاحب بالائی حصہ مسجد پر تشریف فرما تھے۔پانچ دیگر اصحاب بھی حاضر تھے۔حضرت مولوی صاحب نے میری طرف اشارہ کر کے حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ اس کو مرض ہر نیا ہو گیا ہے۔اطمینان کے لئے میں نے اس کو ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب کے پاس بھیجا تھا۔انہوں نے جلد سے جلد آپریشن کیا جانا ضروری تجویز فرمایا ہے۔یہ سن کر حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ مولوی صاحب ! وہ ہر نیا مرض کیا ہوتا ہے۔مولوی صاحب کے اس توضیح فرمانے پر کہ یونانی والے اس مرض کو فتق کہتے ہیں۔حضور نے میری طرف مخاطب ہو کر فرمایا کہ ہم نے کبھی آپ کو اس مرض کی وجہ سے تکلیف کی حالت میں نہیں دیکھا۔آپ ہمیشہ تندرست آدمی کی طرح چلتے پھرتے ہیں۔حضرت مولوی صاحب نے فرمایا کہ آپریشن سے قبل ایک قسم کی پیٹی اس مرض کے لئے خاص طور پر بنی ہوئی ہوتی ہے۔اس کو یہ ہر وقت لگائے رہتے ہیں۔اس سے مرض کو تو کوئی افاقہ نہیں ہوتا۔البتہ چلنے پھرنے میں سہولت اور ایک طرح کا سہارا رہتا ہے۔حضور نے یہ سن کر فرمایا! کہ جب کام چل رہا ہے اور کوئی تکلیف نہیں۔پھر آپریشن کی کیا حاجت ہے۔حضرت مولوی صاحب نے فرمایا کہ بیٹی کوئی علاج تو نہیں ایک سہارا ہے۔اور بعض حالات ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اس بیٹی کے استعمال سے الٹا مرض کو ترقی ہوتی ہے اور پھر کسی خرابی کے رونما ہونے پر آپریشن بھی کامیاب نہیں ہوتا۔اور اخیر عمر میں آپریشن کو بغیر اشد ضرورت کے ممنوع بھی قرار دیتے ہیں۔اس موقعہ پر مرزا یعقوب بیگ صاحب بھی وہاں موجود ہیں اور عمر کے لحاظ سے بھی مناسب وقت ہے۔اور ویسے بھی یہ آپریشن زیادہ خطرے والا نہیں ہوتا۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔کہ میں تو اندرونی آپریشنوں کے بارہ میں جو خطرے کا پہلو رکھتے ہوں۔یہی رائے رکھتا ہوں کہ وہ اشد ضرورت کے وقت کرانے چاہئیں۔یعنی جب تک بغیر آپریشن