سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 98
سیرت المہدی 98 حصہ چہارم بھی چند آدمی تھے۔جہاں آپ کی نشست تھی۔وہاں کا یہ ذکر ہے۔فرمایا کہ جیسا کہ ایک دنیا دار کو اپنے صندوق میں رکھے ہوئے روپوں پر بھروسہ ہوتا ہے کہ جب چاہوں گا نکال لوں گا۔اس سے زیادہ اُن لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ پر یقین ہوتا ہے اور ایسا ہی ہوتا ہے کہ جب ضرورت ہوتی ہے۔فور خدا تعالیٰ بھیج دیتا ہے۔1125 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عادت تھی۔کہ مہمانوں کے لئے دوستوں سے پوچھ پوچھ کرعمدہ عمدہ کھانے پکواتے تھے کہ کوئی عمدہ کھانا بتاؤ جو دوستوں کے لیے پکوایا جائے۔حکیم حسام الدین صاحب سیالکوٹی ، میر حامد شاہ صاحب مرحوم کے والد تھے۔ضعیف العمر آدمی تھے۔اُن کو بلالیا۔اور فرمایا کہ میر صاحب کوئی عمدہ کھانا بتلائیے۔جو مہمانوں کے لئے پکوایا جائے۔انہوں نے کہا کہ میں شب دیگ بہت عمدہ پکوانی جانتا ہوں۔آپ نے فرمایا بہت اچھا۔اور ایک مٹھی روپوں کی نکال کر ان کے آگے رکھ دی۔انہوں نے بقدر ضرورت روپے اُٹھالئے اور آخر انہوں نے بہت سے شلجم منگوائے۔اور چالیس پچاس کے قریب کھونٹیاں لکڑی کی بنوائیں۔شلجم چھلوا کر کھونٹیوں سے کوچے لگوانے شروع کئے۔اور ان میں مصالحہ اور زعفران وغیرہ ایسی چیزیں بھروائیں۔پھر وہ دیگ پکوائی۔جو واقعہ میں بہت لذیذ تھی اور حضرت صاحب نے بھی بہت تعریف فرمائی اور مہمانوں کو کھلائی گئی۔1126 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ایک انسپکٹر جنرل پولیس کا ایک باورچی قادیان میں آیا۔بوڑھا آدمی تھا اور بیعت میں داخل تھا۔اس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ ایک بڑے آدمی کا کھانا پکاتے رہے ہیں کوئی بہت عمدہ چیز دوستوں کے لئے پکائیں۔انہوں نے کہا پہلے حضور نمونہ ملاحظہ فرمائیں۔پھر اس نے بکرے کی ران اور گھی منگا کر روسٹ کیا مگر وہ گوشت بالکل نہ گلا۔حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کیا۔میں اور مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم بیٹھے ہوئے تھے۔گوشت چاقو سے بمشکل کہتا تھا۔بڑی مشکل سے تھوڑا سا ٹکڑا کاٹ کر اس نے حضرت صاحب کو دیا۔آپ نے منہ میں ڈال لیا۔اور چبانے کی کوشش فرماتے رہے۔وہ