سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 97
سیرت المہدی 97 حصہ چہارم جاتے ہیں اور جہاز راستے سے اُتر گیا۔اگلے دن گاڑی میں سوار ہو کر جب ہم دونوں چلے ہیں تو مانانوالہ سٹیشن پر گاڑی کا پہیہ پٹڑی سے اتر گیا۔گاڑی اسی وقت کھڑی ہوگئی۔دیر بعد پہیہ سڑک پر چڑھایا گیا۔کئی گھنٹے لگے۔پھر ہم قادیان پہنچ گئے۔میں نے منشی علی گوہر صاحب کا ٹکٹ خود ہی خرید لیا تھا۔وہ اپنا کرایہ دینے پر اصرار کرنے لگے۔میں نے کہا یہ آپ حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کر دیں۔چنانچہ دو روپے انہوں نے حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کر دیئے۔آٹھ دس دن رہ کر جب ہم واپسی کے لئے اجازت لینے گئے تو حضور نے اجازت فرمائی۔اور منشی صاحب کو کہا ذرا آپ ٹھہریئے۔پھر آپ نے دس یا پندره رو پینیشی صاحب کو لا کر دیئے۔منشی صاحب رونے لگے اور عرض کی کہ حضور مجھے خدمت کرنی چاہئے یا میں حضور سے لوں۔حضرت صاحب نے مجھے ارشاد فرمایا کہ یہ آپ کے دوست ہیں۔آپ انہیں سمجھائیں۔پھر میرے سمجھانے پر کہ ان میں برکت ہے۔انہوں نے لے لئے اور ہم چلے آئے حالانکہ حضرت صاحب کو نشی صاحب کی حالت کا بالکل علم نہ تھا۔1124 بسم الله ارحمن الرحیم منشی ظفر احد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ جلسہ سالانہ کے موقعہ پر خرچ نہ رہا۔ان دنوں جلسہ سالانہ کے لئے چندہ ہو کر نہیں جاتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے پاس سے ہی صرف فرماتے تھے۔میر ناصر نواب صاحب مرحوم نے آکر عرض کی کہ رات کو مہمانوں کے لئے کوئی سامان نہیں ہے۔آپ نے فرمایا کہ بیوی صاحبہ سے کوئی زیور لے کر جو کفایت کر سکے فروخت کر کے سامان کر لیں۔چنانچہ زیور فروخت یار ہن کر کے میر صاحب روپیہ لے آئے اور مہمانوں کے لئے سامان بہم پہنچا دیا۔دو دن کے بعد پھر میر صاحب نے رات کے وقت میری موجودگی میں کہا کہ کل کے لئے پھر کچھ نہیں۔فرمایا کہ ہم نے برعایت ظاہری اسباب کے انتظام کر دیا تھا۔اب ہمیں ضرورت نہیں۔جس کے مہمان ہیں وہ خود کرے گا۔اگلے دن آٹھ یا نو بجے صبح جب چٹھی رسان آیا تو حضور نے میر صاحب کو اور مجھے بلایا۔چٹھی رساں کے ہاتھ میں دس پندرہ کے قریب منی آرڈرہوں گے۔جو مختلف جگہوں سے آئے ہوئے تھے۔سوسو پچاس پچاس روپیہ کے۔اور اُن پر لکھا تھا کہ ہم حاضری سے معذور ہیں۔مہمانوں کے صرف کے لئے یہ روپے بھیجے جاتے ہیں۔وہ آپ نے وصول فرما کر تو کل پر تقریر فرمائی۔اور