سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 93 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 93

سیرت المہدی 93 حصہ اوّل 116 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ گو براہین احمدیہ کی تالیف اور اسکے متعلق مواد جمع کرنے کا کام پہلے سے ہور ہا تھا مگر براہین احمدیہ کی اصل تصنیف اور اس کی اشاعت کی تجویز ۱۸۷۹ء سے شروع ہوئی اور اس کا آخری حصہ یعنی حصہ چہارم ۱۸۸۴ء میں شائع ہوا۔براہین کی تصنیف سے پہلے حضرت مسیح موعود ایک گمنامی کی زندگی بسر کرتے تھے اور گوشہ نشینی میں درویشانہ حالت تھی۔گو براہین سے قبل بعض اخباروں میں مضامین شائع کرنے کا سلسلہ آپ نے شروع فرما دیا تھا اور اس قسم کے اشتہارات سے آپ کا نام ایک گونہ پبلک میں بھی آگیا تھا مگر بہت کم۔ہاں اپنے ملنے والوں میں آپ کی تبلیغ وتعلیم کا دائرہ عالم شباب سے ہی شروع نظر آتا ہے چنانچہ ۶۵ ۱۸۶۴ء میں جب آپ ابھی بالکل نوجوان تھے آپ نے اپنے تبلیغی کام کے متعلق ایک رؤیا دیکھا تھا پھر انہی دنوں میں جب کہ آپ سیالکوٹ ملازم ہوئے تو اس وقت کے متعلق بھی یقینی شہادت موجود ہے کہ آپ نے تبلیغ و تعلیم کا کام شروع فرما دیا تھا اور غیر مذاہب والوں سے آپ کے زبانی مباحثے ہوتے رہتے تھے مگر یہ سب محض پر ائیو یٹ حیثیت رکھتے تھے، پبلک میں آپ نے تصنیف براہین سے صرف کچھ قبل یعنی ۱۸۷۷،۷۸ء میں آنا شروع کیا اور مضامین شائع کرنے شروع فرمائے اور تبلیغی خطوط کا دائرہ بھی وسیع کیا۔مگر دراصل مستقل طور پر براہین احمدیہ کے اشتہار نے ہی سب سے پہلے آپ کو ملک کے سامنے کھڑا کیا اور اس طرح علم دوست اور مذہبی امور سے لگاؤر کھنے والے طبقہ میں آپ کا انٹروڈکشن ہوا اور لوگوں کی نظریں اس دیہات کے رہنے والے گمنام شخص کی طرف حیرت کے ساتھ اُٹھنی شروع ہوئیں جس نے اس تحری اور اتنے بڑے انعام کے وعدہ کے ساتھ اسلام کی حقانیت کے متعلق ایک عظیم الشان کتاب لکھنے کا اعلان کیا۔اب گویا آفتاب ہدایت جولاریب اس سے قبل طلوع کر چکا تھا اُفق سے بلند ہونے لگا۔اس کے بعد براہین احمدیہ کی اشاعت نے ملک کے مذہبی حلقہ میں ایک غیر معمولی تموج پیدا کر دیا۔مسلمانوں نے عام طور پر مصنف براہین کا ایک مجدد ذی شان کے طور پر خیر مقدم کیا اور مخالفین اسلام کے کیمپ میں بھی اس گولہ باری سے ایک ہلچل مچ گئی۔خود مصنف کے لئے بھی تصنیف براہین کا زمانہ ایک حالت میں نہیں گذرا بلکہ وہ جو شروع تصنیف میں ایک عام خادم اسلام کے طور پر اُٹھا تھا۔دوران تصنیف میں تجتبی الہی کے خاص جلوے موسیٰ عمران کی طرح اسے کہیں سے کہیں لے گئے