سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 94 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 94

سیرت المہدی 94 حصہ اوّل اور اختتام تصنیف براہین سے قبل ہی وہ ایک پرائیویٹ سپاہی کی طرح نہیں بلکہ شہنشاہ عالم کی طرف سے ایک مامور جرنیل کے طور پر میدان کارزار میں هَلْ مِنْ مُبَارِزِ پکار رہا تھا۔خلاصہ یہ کہ براہین احمدیہ کی تصنیف نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ملک کے علم دوست اور مذہبی امور میں دلچپسی رکھنے والے طبقہ میں ایک بہت نمایاں حیثیت دے دی تھی اور خاص معتقدین کا ایک گروہ بھی قائم ہو گیا تھا اور قادیان کا گمنام گاؤں جو ریل اور سڑک سے دور پردہ پوشیدگی کے نیچے مستور تھا اب گاہے گاہے بیرونی مہمانوں کا منظر بنے لگا تھا اور مخالفین اسلام بھی اپنے منہ کی پھونکوں سے اس نور کو بجانے کے لئے اُٹھ کھڑے ہوئے تھے۔براہین کی اشاعت کے بعد حضرت مسیح موعود نے بیس ہزار اردو اور انگریزی اشتہاروں کے ذریعہ دنیا کے تمام ممالک میں اپنی ماموریت کا اعلان فرمایا۔اس کے بعد جب شروع ۱۸۸۶ء میں حضرت مسیح موعود نے خدائی حکم کے ماتحت ہوشیار پور جا کر وہاں چالیس دن خلوت کی اور ذکر خدا میں مشغول رہے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے آپ کو ایک عظیم الشان بیٹے کی بشارت دی جس نے اپنے مسیحی نفس سے مصلح عالم بن کر دنیا کے چاروں کونوں میں شہرت پانی تھی۔یہ الہام اس قدر جلال اور شان وشوکت کے ساتھ ہوا کہ جب حضور نے ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں اس کا اعلان فرمایا تو اس کی وجہ سے ملک میں ایک شور بر پا ہو گیا اور لوگ نہایت شوق کے ساتھ اس پسر موعود کی راہ دیکھنے لگے۔اور سب نے اپنے اپنے خیال کے مطابق اس پسر موعود کے متعلق امیدیں جمالیں۔بعض نے اس پسر موعود کو مہدی معہود سمجھا جس کا اسلام میں وعدہ دیا گیا تھا اور جس نے دنیا میں مبعوث ہو کر اسلام کے دشمنوں کو نا پید اور مسلمانوں کو ہر میدان میں غالب کرنا تھا۔بعض نے اور اسی قسم کی امیدیں قائم کیں اور بعض تماشائی کے طور پر پیشگوئی کے جلال اور شان و شوکت کو دیکھ کر ہی حیرت میں پڑ گئے تھے اور بغیر کوئی امید قائم کئے اس انتظار میں تھے کہ دیکھئے پردہ غیب سے کیا ظہور میں آتا ہے۔غیر مذاہب والوں کو بھی اس خبر نے چونکا دیا تھا۔غرض اس وحی الہی کی اشاعت رجوع عام کا باعث ہوئی۔ان دنوں حضور کے ہاں بچہ پیدا ہو نیوالا تھا مگر اللہ نے بھی ایمان کے راستہ میں ابتلا رکھے ہوتے ہیں۔سو قدرت خدا کہ چند ماہ کے بعد یعنی مئی ۱۸۸۶ء میں بچہ پیدا ہوا تو وہ لڑکی تھی اس پر خوش اعتقادوں میں مایوسی اور بداعتقادوں اور دشمنوں میں ہنسی اور استہزا کی ایک ایسی لہر اٹھی کہ جس نے ملک