سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 92
سیرت المہدی 92 حصہ اوّل 1149 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب قادیان کے شمالی جانب سیر کے لئے تشریف لے گئے۔میں اور شیخ حامد علی ساتھ تھے۔راستہ کے او پر ایک کھیت کے کنارے ایک چھوٹی سی بیری تھی اور اسے بیر لگے ہوئے تھے اور ایک بڑا عمدہ پکا ہوا لال بیر راستہ میں گرا ہوا تھا۔میں نے چلتے چلتے اسے اُٹھا لیا اور کھانے لگا۔حضرت صاحب نے فرمایا نہ کھاؤ اور وہیں رکھ دو آخر یہ کسی کی ملکیت ہے۔میاں عبداللہ صاحب کہتے ہیں کہ اس دن سے آج تک میں نے کسی بیری کے بیر بغیر اجازت مالک اراضی کے نہیں کھائے کیونکہ جب میں کسی بیری کی طرف دیکھتا ہوں تو مجھے یہ بات یاد آجاتی ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس ملک میں بیریاں عموماً خودرو ہوتی ہیں اور ان کے پھل کے متعلق کوئی پروانہیں کی جاتی۔115) بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب نے کہ ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول کے پاس کسی کا خط آیا کہ کیا نماز میں ناف سے او پر ہاتھ باندھنے کے بارے میں کوئی صحیح حدیث بھی ملتی ہے ؟ حضرت مولوی صاحب نے یہ خط حضرت صاحب کے سامنے پیش کیا اور عرض کیا کہ اس بارہ میں جو حدیثیں ملتی ہیں وہ جرح سے خالی نہیں۔حضرت صاحب نے فرمایا مولوی صاحب آپ تلاش کریں ضرور مل جائے گی کیونکہ باوجود اس کے کہ شروع عمر میں بھی ہمارے اردگر دسب حنفی تھے مجھے ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا کبھی پسند نہیں ہوا بلکہ ہمیشہ طبیعت کا میلان ناف سے اوپر ہاتھ باندھنے کی طرف رہا ہے اور ہم نے بار ہا تجربہ کیا ہے کہ جس بات کی طرف ہماری طبیعت کا میلان ہو وہ تلاش کرنے سے ضرور حدیث میں نکل آتی ہے۔خواہ ہم کو پہلے اس کا علم نہ ہو۔پس آپ تلاش کر یں ضرور مل جائے گی۔مولوی سرورشاہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس پر حضرت مولوی صاحب گئے اور کوئی آدھا گھنٹہ بھی نہ گذرا تھا کہ خوش خوش ایک کتاب ہاتھ میں لئے آئے اور حضرت صاحب کو اطلاع دی کہ حضور حدیث مل گئی ہے اور حدیث بھی ایسی کہ جو علی شرط الشیخین ہے جس پر کوئی جرح نہیں۔پھر کہا کہ یہ حضور ہی کے ارشاد کی برکت ہے۔