سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 89
سیرت المہدی 89 حصہ اوّل ساتھ ثابت ہو جائے تو پھر اس کے کسی دعوی میں چون و چرا کرنا باری تعالیٰ کا مقابلہ کرنا ٹھہرتا ہے۔مگر ویسے حضرت مولوی صاحب نے جو کچھ فرمایا۔وہ صرف ایک اصولی رنگ کی بات تھی۔ورنہ ہمارا ایمان ہے اور یہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم ہے کہ قرآنی شریعت آخری شریعت ہے۔پس حضرت مولوی صاحب کے یہ الفاظ اسی رنگ کے سمجھے جائیں گے۔جس رنگ میں اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ قُلْ إِنْ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِين - (الزخرف: ۸۲) 110 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ پسر موعود کی پیشگوئی کے بعد حضرت صاحب ہم سے کبھی کبھی کہا کرتے تھے کہ دعا کرو کہ اللہ تعالی ہم کوجلد وہ موعولر کا عطا کرے۔ان دنوں میں حضرت کے گھر امیدواری تھی۔ایک دن بارش ہوئی تو میں نے مسجد مبارک کے اوپر صحن میں جا کر بڑی دعا کی کیونکہ میں نے حضرت صاحب سے سنا ہوا تھا کہ اگر بارش میں دعا کی جاوے تو زیادہ قبول ہوتی ہے۔پھر مجھے دعا کرتے کرتے خیال آیا کہ باہر جنگل میں جاکر دعا کروں کیونکہ میں نے حضرت صاحب سے یہ بھی سنا ہوا تھا کہ باہر جنگل کی دعا بھی زیادہ قبول ہوتی ہے اور میں نے غنیمت سمجھا کہ یہ دو قبولیت کے موقعے میرے لئے میسر ہیں۔چنانچہ میں قادیان سے مشرق کی طرف چلا گیا اور باہر جنگل میں بارش کے اندر بڑی دیر تک سجدہ میں دعا کرتا رہا۔گویا وہ قریباً سارا دن میرا بارش میں ہی کٹا۔اسی دن شام یا دوسرے دن صبح کو حضرت صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ ان کو کہہ دو انہوں نے رنج بہت اُٹھایا ہے ثواب بہت ہوگا۔میں نے عرض کیا حضور یہ الہام تو میرے متعلق معلوم ہوتا ہے حضور نے فرما یا کس طرح؟ میں نے اپنی دعا کا سارا قصہ سنایا۔حضور خوش ہوئے اور فرمایا ایسا ہی معلوم ہوتا ہے پھر میں نے اس خوشی میں ایک آنہ کے پتاشے بانٹے۔مگر اس وقت میں اس کے اصل معنے نہیں سمجھا۔پھر جب عصمت پیدا ہوئی تو میں سمجھا کہ دراصل اس الہام میں یہ بتایا گیا تھا کہ گود عا قبول نہیں ہوگی مگر مجھے ثواب پہنچ جائے گا۔111 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ جب ابھی حضور نے سلسلہ بیعت شروع نہیں فرمایا تھا میں نے ایک دفعہ حضرت سے عرض کیا کہ حضور میری بیعت لیں۔آپ