سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 90
سیرت المہدی 90 حصہ اوّل نے فرمایا پیر کا کام بھنگی کا سا کام ہے اسے اپنے ہاتھ سے مرید کے گند نکال نکال کر دھونے پڑتے ہیں اور مجھے اس کام سے کراہت آتی ہے۔میں نے عرض کیا حضور تو پھر کوئی تعلق تو ہونا چاہیے میں آتا ہوں اور اوپرا او پرا چلا جاتا ہوں۔حضور نے فرمایا اچھا تم ہمارے شاگرد بن جاؤ اور ہم سے قرآن شریف کا ترجمہ پڑھ لیا کرو۔پھر عید کے دن حضور نے فرمایا جاؤ ایک آنہ کے پتاشے لے آؤ تا با قاعدہ شاگرد بن جاؤ۔میں نے پتاشے لا کر سامنے رکھ دیئے جو حضور نے تقسیم فرما دیے اور کچھ مجھے بھی دے دیئے۔پھر حضور مجھے ایک ہفتہ کے بعد ایک آیت کے سادہ معنے پڑھا دیا کرتے تھے اور کبھی کسی آیت کی تھوڑی سی تفسیر بھی فرما دیتے تھے۔ایک دن فرمایا میاں عبد اللہ میں تم کو قرآن شریف کے حقائق و معارف اس لئے نہیں بتا تا کہ میں تم میں ان کے برداشت کرنے کی طاقت نہیں دیکھتا۔میاں عبداللہ صاحب کہتے تھے کہ اس کا مطلب میں یہ سمجھا ہوں کہ اگر مجھے اس وقت وہ بتائے جاتے تو میں مجنون ہو جاتا۔مگر میں اس سادہ ترجمہ کا ہی جو میں نے آپ سے نصف پارہ کے قریب پڑھا ہوگا اب تک اپنے اندر فہم قرآن کے متعلق ایک خاص اثر دیکھتا ہوں نیز میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے تھے کہ میں نے ایک دفعہ حضرت صاحب سے عرض کیا کہ حضور میں جب قادیان آتا ہوں تو اور تو کوئی خاص بات محسوس نہیں ہوتی مگر میں یہ دیکھتا ہوں کہ یہاں وقتا فوقتا یکلخت مجھے پر بعض آیات قرآنی کے معنے کھولے جاتے ہیں اور میں اس طرح محسوس کرتا ہوں کہ گویا میرے دل پر معانی کی ایک پوٹلی بندھی ہوئی گرادی جاتی ہے۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ ہمیں قرآن شریف کے معارف دے کر ہی مبعوث کیا گیا ہے اور اسی کی خدمت ہمارا فرض مقرر کی گئی ہے پس ہماری صحبت کا بھی یہی فائدہ ہونا چاہیے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھ سے حاجی عبدالمجید صاحب لدھیانوی نے بھی بیان کیا کہ ہمارے پہلے پیر نشی احمد جان صاحب مرحوم نے بھی حضرت صاحب سے بیعت کی درخواست کی تھی مگر حضور نے فرمایا لَسْتُ بِمَأْمُورِ یعنی مجھے اس کا حکم نہیں دیا گیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت خلیفہ اول نے بھی جب حضور سے بیعت کی درخواست کی تھی تو حضور نے یہی جواب دیا تھا کہ مجھے اس کا حکم نہیں ملا پھر بعد میں جب حکم ہوا تو حضور نے بیعت کا سلسلہ شروع فرمایا۔112 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ حضرت