سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 77
سیرت المہدی 77 حصہ اوّل کرتا ہے۔اور از خود دکھانے سے مجھے کراہت ہے کیونکہ حضرت صاحب کے الفاظ میرے دل پر نقش ہیں اور ہر سفر میں میں اسے پاس رکھتا ہوں اس خیال سے کہ کچھ معلوم نہیں کہ کہاں جان نکل جاوے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں نے یہ گر نہ دیکھا ہے سرخی کا رنگ ہلکا ہے یعنی گلابی سا ہے اور مجھے میاں عبداللہ صاحب سے معلوم ہوا ہے کہ رنگ ابتدا سے ہی ایسا چلا آیا ہے۔( نیز دیکھوروایت نمبر ۴۳۶) 101 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ جب میں ۱۸۸۲ء میں پہلے پہل قادیان آیا تو اس وقت میری عمر سترہ اٹھارہ سال کی تھی اور میری ایک شادی ہو چکی تھی اور دوسری کا خیال تھا جس کے متعلق میں نے بعض خواہیں بھی دیکھی تھیں۔میں نے ایک دن حضرت صاحب کے ساتھ ذکر کیا کہ مجھے ایسی ایسی خوابیں آئی ہیں حضرت صاحب نے فرمایا یہ تمہاری دوسری شادی کے متعلق ہیں اور فرمایا مجھے بھی اپنی دوسری شادی کے متعلق الہام ہوئے ہیں۔دیکھئے تمہاری شادی پہلے ہوتی ہے کہ ہماری۔میں نے ادب کے طور پر عرض کیا کہ حضور ہی کی پہلے ہوگی۔پھر اس کے بعد مجھے اپنے ایک رشتہ کے ماموں محمد اسماعیل کی لڑکی کے ساتھ نکاح کا خیال ہو گیا۔چنانچہ میں نے قادیان آ کر حضرت صاحب کے ساتھ اس کا ذکر کیا۔اس سے پہلے میرے ساتھ اسماعیل مذکور بھی ایک دفعہ قادیان ہو گیا تھا۔حضور نے مجھ سے فرمایا تم نے اس وقت کیوں نہ مجھ سے ذکر کیا جب اسماعیل یہاں آیا تھا ہم اسے یہیں تحریک کرتے۔پھر آپ نے میرے ماموں محمد یوسف صاحب مرحوم کو جو حضرت صاحب کے بڑے معتقد تھے اور جن کے ذریعہ مجھے حضرت صاحب کی طرف رہنمائی ہوئی تھی خط لکھا اور اس میں اسماعیل کے نام بھی ایک خط ڈالا اور لکھا کہ اسماعیل کے نام کا خط اسکے پاس لے جائیں اور اسے تحریک کریں۔اور اس خط میں میرے والد اور دادا اور خسر کی طرف بھی حضور نے خطوط ڈال کر بھیجے اور ان سب خطوط کوا ہم بنانے کیلئے ان پرالَيسَ اللهُ بِكَافٍ عَبدَہ والی مہر لگائی اور میرے والد اور دادا اور خسر کے خط میں لکھا کہ میاں عبداللہ دینی غرض سے دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں ان کو نہ روکیں اور ان پر راضی رہیں۔میاں عبداللہ صاحب کہتے ہیں کہ حضرت صاحب نے ایسا اس لئے لکھا تھا کہ میں نے حضور کو کہا تھا کہ میں نے اپنے والد اور دادا سے اس امر کے متعلق کھل کر ذکر نہیں کیا مجھے ڈر ہے کہ وہ کہیں اس میں روک نہ ہوں کیونکہ اس زمانہ میں