سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 76 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 76

سیرت المہدی 76 حصہ اوّل کفن کے ساتھ دفن کر دیا گیا۔میں نے عرض کیا کہ حضور میں بھی مرتا ہوا وصیت کر جاؤں گا کہ یہ گر نہ میرے کفن کے ساتھ دفن کر دیا جاوے۔فرمایا ہاں اگر یہ عہد کرتے ہو تو لے لو۔چونکہ وہ جمعہ کا دن تھا تھوڑی دیر کے بعد حضور نے غسل کر کے کپڑے بدلے اور میں نے یہ گر نہ سنبھال لیا۔میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ ابھی آپ نے یہ گرتہ پہنا ہی ہوا تھا کہ دو تین مہمان جواردگرد سے آئے ہوئے تھے ان سے میں نے اس نشان کا ذکر کیا۔وہ پھر حضرت صاحب کے پاس آئے اور عرض کیا کہ میاں عبداللہ نے ہم سے ایسا بیان کیا ہے حضور نے فرمایا۔ہاں ٹھیک ہے۔پھر انہوں نے کہا کہ حضور یہ گرنہ ہم کو دیدیں ہم سب تقسیم کر لیں گے کیونکہ ہم سب کا اس میں حق ہے۔حضرت صاحب نے فرمایا ہاں لے لینا اور ان سے کوئی شرط اور عہد وغیرہ نہیں لیا۔مجھے اس وقت بہت فکر ہوا کہ یہ نشان میرے ہاتھ سے گیا۔اور میرے دل میں بہت گھبراہٹ پیدا ہوئی اس لئے میں نے حضرت صاحب سے عرض کیا کہ حضور اس گر تہ پر آپ کا کوئی اختیار نہیں کیونکہ یہ میری ملک ہو چکا ہے۔میرا اختیار ہے میں ان کو دوں یا نہ دوں کیونکہ میں حضور سے اس کو لے چکا ہوں۔اس وقت حضور نے مسکرا کر فرمایا کہ ہاں یہ تو میاں عبداللہ ہم سے لے چکے ہیں اب ان کا اختیار ہے یہ تمہیں دیں یا نہ دیں۔پھر انہوں نے مجھ سے بڑے اصرار سے مانگا مگر میں نے انکار کر دیا۔میاں عبداللہ صاحب فرماتے ہیں کہ آج تک اس گر تہ پر سرخی کے ویسے ہی داغ موجود ہیں کوئی تغیر نہیں ہوا۔اور اس گرتہ کے کپڑے کو پنجابی میں نینو کہتے ہیں۔یہ گر نہ حضور نے سات دن سے پہنا ہوا تھا۔میں یہ گرتہ پہلے لوگوں کو نہیں دکھایا کرتا تھا کیونکہ حضور کے یہ الفاظ کہ یہ گر نہ زیارت نہ بنالیا جاوے مجھے یادر ہتے تھے۔لیکن لوگ بہت خواہش کیا کرتے تھے اور لوگ اس کے دیکھنے کے لئے مجھے بہت تنگ کرنے لگے۔میں نے حضرت خلیفہ ثانی سے اس کا ذکر کیا کہ مجھے حضرت صاحب کے الفاظ کی وجہ سے اس گرتہ کے دکھانے سے کراہت آتی ہے مگر لوگ تنگ کرتے ہیں کیا کیا جاوے؟ حضرت میاں صاحب نے فرمایا اسے بہت دکھایا کرو اور کثرت کے ساتھ دکھاؤ تا کہ اس کی رؤیت کے گواہ بہت پیدا ہو جاویں اور ہر شخص ہماری جماعت میں سے یہ کہے کہ میں نے بھی دیکھا ہے۔میں نے بھی دیکھا ہے، میں نے بھی دیکھا ہے یا شاید میں نے کی جگہ ہم نے کے الفاظ کہے۔اس کے بعد میں دکھانے لگ گیا۔مگر اب بھی صرف اس کو دکھاتا ہوں جو خواہش