سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 78 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 78

سیرت المہدی 78 حصہ اوّل وو نکاح ثانی کو بُرا سمجھا جاتا تھا۔حضرت صاحب نے ادھر یہ خطوط لکھے اور ادھر میرے واسطے دعا شروع فرمائی۔ابھی میرے ماموں محمد یوسف صاحب کا جواب نہیں آیا تھا اور حضرت صاحب میری تحریک پر اس امر کے واسطے دعا میں مصروف تھے کہ عین دعا کرتے کرتے حضرت صاحب کو الہام ہوا نا کامی پھر دعا کی تو الہام ہوا ” اے بسا آرزو کہ خاک شدہ ، پھر اس کے بعد ایک اور الہام ہوا ” فَصَبْرٌ جَمِيل “۔حضرت صاحب نے مجھے یہ الہام بتا دیے۔ان دنوں میں میر عباس علی بھی یہاں آئے ہوئے تھے ان سے حضرت صاحب نے ان الہامات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ معلوم نہیں میاں عبداللہ صاحب کا ہمارے ساتھ کیسا تعلق ہے کہ ادھر دعا کرتا ہوں اور اُدھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب مل جاتا ہے۔چند دنوں کے بعد میاں محمد یوسف صاحب کا جواب آگیا کہ میاں عبداللہ کے والد اور دادا اور خسر تو راضی ہو گئے ہیں مگر اسماعیل انکار کرتا ہے۔اس پر حضرت نے فرمایا کہ اب ہم اسماعیل کو خود کہیں گے۔میں نے عرض کیا کہ حضور ادھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ناکامی کا الہام ہوا ہے اُدھر اسماعیل انکاری ہے اب اس معاملہ میں کیا کامیابی کی صورت ہو سکتی ہے؟ فرمایا نہیں قرآن شریف میں ہے كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنِ الرَّحمن: ۳۰) یعنی ہر دن اللہ تعالیٰ الگ شان میں ہوتا ہے پس کوشش نہیں چھوڑنی چاہیے۔ممکن ہے اللہ تعالیٰ کے الہامات کا یہ منشاء ہو کہ جس طریق پر کوشش کی گئی ہے اس میں ناکامی ہے اور کسی اور طریق پر کامیابی مقدر ہو۔چنانچہ اس کے بعد بدستور میرا اس کی طرف خیال رہا اور میں حضور سے دعائیں بھی کراتا رہا۔اسماعیل ان دنوں میں سر ہند کے پاس پٹواری تھا اور سرہند میں حشمت علی خان صاحب تحصیلدار تھے۔جو ڈا کٹر عبدالحکیم خاں کے قریبی رشتہ دار تھے۔انہوں نے حضرت صاحب سے وعدہ لیا ہوا تھا کہ کبھی حضور سر ہند تشریف لے چلیں گے۔چنانچہ جب آپ انبالہ جانے لگے تو مجھے کہا کہ حشمت علی خاں صاحب کو لکھ دو کہ ہم انبالہ جاتے ہوئے سر ہند آئیں گے اور مجھے حضرت صاحب نے فرمایا کہ سرہند میں مجد وصاحب کے روضہ پر بھی ہو آئیں گے۔اور اسماعیل سے بھی تمہارے متعلق بات کرنے کا موقعہ مل جائے گا۔چنانچہ آپ وہاں گئے اور تحصیل میں حشمت علی خاں صاحب کے پاس ٹھہرے۔رات کو جب نماز اور کھانے سے فراغت ہو چکی تو حضور چار پائی پر لیٹ گئے اور حشمت علی خان صاحب سے فرمایا تحصیل دار صاحب اب آپ آرام کریں ہم نے میاں