سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 818 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 818

سیرت المہدی 818 حصہ سوم کھلاؤ۔چونکہ ہر روز قادیان جانا پڑتا تھا۔اور اس کو صحت نہ ہوتی تھی۔تو حضور نے فرمایا کہ اس کو پھر قادیان لے آؤ۔پھر یہاں ہی علاج ہوتا رہا۔اور خدا کے فضل سے اس کو صحت ہوگئی۔اور جب میں قادیان میں ہی تھا تو مجھے پیغام ملا کہ میرے گھر ایک اور لڑکا پیدا ہوا ہے اور پہلے لڑکے کو بھی اللہ تعالیٰ نے کامل شفا عنایت کر دی ہے۔میں نے حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کی کہ لڑکا خدا کے فضل سے اور حضور کی دعاؤں کی برکت سے صحت یاب ہو گیا ہے۔اور اس کا ایک بھائی بھی پیدا ہوا ہے۔حضور اس کا نام تجویز فرماد میں آپ نے فرمایا کہ اس کا نام رحمت اللہ رکھو۔کیونکہ یہ نام رسول کریم ﷺ کا ہے جیسے فرمایا: وما ارسلنک الاّ رحمة للعالمين 960 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نورمحمد صاحب سا کن فیض اللہ چک نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک مرتبہ میں حسب معمول قادیان گیا۔وہاں دیکھا تو ہمارے ایک دوست برکت علی گول کمرہ میں بیمار پڑے ہیں اور تپ محرقہ سے زبان بند ہو چکی تھی۔حضرت علیہ السلام نے فرمایا کر عرق گاؤ زبان اور شربت بنفشہ اس کے منہ میں ڈالو۔میں شام تک اسی طرح کرتا رہا۔اسی روز امرتسر سے ایک کا تب آیا۔جس کو حضور علیہ السلام نے بلایا تھا۔چونکہ ازالہ اوہام کی کاپی شروع ہوئی تھی۔آپ نے فرمایا کہ آج تو ہمارے ایک دوست بیمار ہیں۔کل کام شروع کرایا جائیگا۔میاں برکت علی صاحب حافظ حامد علی صاحب کے بہنوئی اور مولوی عبدالرحمن صاحب جٹ کے والد ماجد تھے۔صبح ہوتے ہی حضور نے فرمایا کہ میاں حامد علی ان کو گھر لے جاؤ۔اس پر اُن کو فیض اللہ چک لا یا گیا اور فیض اللہ چک آتے ہی فوت ہو گئے۔انــالـــه وانـا اليـه راجعون۔961 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نور محمد صاحب ساکن فیض اللہ چک نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جس وقت آتھم کے متعلق یہ مشہور ہوا کہ وہ معیاد کے اندر فوت نہیں ہوا۔تو حضور علیہ السلام نے حکم دیا کہ دیہات میں روٹیاں پکوا کر تقسیم کرو اور کہو کہ یہ روٹیاں فتح اسلام کی روٹیاں ہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس سے حضرت صاحب کی مراد یہ تھی کہ پیشگوئی اپنی شرائط کے مطابق