سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 817
سیرت المہدی 817 حصہ سوم السلام نے اپنے گھر کی حفاظت کے لئے ایک دفعہ ایک گڈی گتا بھی رکھا تھا۔وہ دروازے پر بندھا رہتا تھا اور اس کا نام شیر و تھا۔اس کی نگرانی بچے کرتے تھے۔یا میاں قدرت اللہ خانصاحب مرحوم کرتے تھے جو گھر کے دربان تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس کتے کی ضرورت ان دنوں میں پیش آئی تھی جب حضرت صاحب باغ میں جا کر ٹھہرے تھے اور وہاں حفاظت کی صورت نہیں تھی۔مگر اس کے بعد کتا شہر والے مکان میں بھی آگیا۔1958 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ملتان کے سفر میں جاتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک رات لاہور ٹھہرے تھے۔وہاں ایک احمدی نے جو بیچارہ علم نہ رکھتا تھا حضرت صاحب سے کہا کہ حضور میرے ہاں دعوت قبول فرمائیے۔حضور نے کچھ عذر کیا۔وہ کہنے لگا۔اگر حضور قبول نہیں کرینگے تو وعید نازل ہوگی۔حضرت صاحب اس کی اس جہالت کی بات پر ہنس پڑے اور دعوت قبول فرمالی۔ان دنوں میں لیکھرام اور آتھم کی پیشگوئیوں کے تذکرہ کی وجہ سے وعدہ الہی اور وعید الٹی کا لفظ کثرت سے لوگوں کی زبانوں پر تھا۔اس نے بھی اپنی جہالت میں یہ لفظ حضرت صاحب کی شان میں کہہ دیا۔959 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نور محمد صاحب ساکن فیض اللہ چک نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کہ ایک مرتبہ میرا ایک لڑکا مسمی عنایت اللہ بیمار ہو گیا۔میں اُسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس برائے علاج لے گیا۔آپ نے بعد نماز عشاء فرمایا کہ اس لڑکے کو باہر ہوا میں لے جائیں۔کیونکہ اس کو تپ محرقہ ہے اور ہمارے مکان چونکہ گرم ہیں اس لئے یہاں مناسب نہیں۔اور ایک بادکش بھی ہم کو دی اور آدھ سیر مصری دے کر فرمایا۔کہ گاؤ زبان کے پتے بھگو کر اسکو دیتے رہو۔ہم اسے اسی وقت باہر لے گئے۔وہاں دو تین روز رہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے علاج کرواتے رہے۔مگر وہ زیادہ بیمار ہو گیا۔لہذا ہم اسے موضع کھارہ سے گھر واپس لے گئے۔گھر آکر اس کو آرام ہو گیا۔مگر کلی صحت نہ ہوئی تھی۔اس لئے دوبارہ پھر حضرت صاحب سے اس کا حال بیان کیا کہ حضور اس کو پیٹ میں درد ہے۔آپ نے حکم دیا کہ اس کے پیٹ میں سدا ہو گیا ہے۔رومی مصطگی اور گلقند