سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 819
سیرت المہدی 819 حصہ سوم پوری ہوگئی ہے اور آتھم کا معیاد کے اندر نہ مرنا بھی پیشگوئی کی صداقت کی علامت تھا کیونکہ اس نے خائف ہوکر رجوع کیا تھا۔پس آپ چاہتے تھے کہ اس خوشی کا دیہات میں چر چا کیا جاوے۔962 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نور محمد صاحب ساکن فیض اللہ چک نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ جب ہمارے والد صاحب مرحوم مرض الموت سے بیمار تھے تو ہم کو بوقت دو پہر الہام ہوا۔والسماء والطارق۔ہم نے خیال کیا کہ شاید والد صاحب کا آج ہی شام کے بعد انتقال ہوگا۔اور ہمارے دل میں فکر پیدا ہوا کہ ہمارے لئے کوئی اور کام یا روزگار کی صورت نہیں۔صرف آپ کی پنشن اور تعلقہ داری پر ہی گزارہ ہوتا تھا۔اور اس پر معا الہام ہوا۔الیس الله بکاف عبده “۔یعنی کیا خدا اپنے بندے کے لئے کافی نہیں۔سبحان الله !خدا نے اپنی کفالت کا کیا ثبوت دیا کہ ہزارہا مہمان اور ہزاروں کام سلسلہ کے کس طرح اس الہام الہی کے تحت انجام پذیر ہورہے ہیں۔اور آپ نے اس الہام کو اپنی مُہر میں کھد والیا تھا۔963 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محد المعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قادیان بٹالہ کے سفر میں یکہ۔پالکی اور پہلی میں سوار ہوتے دیکھا ہے مگر گھوڑے پر نہیں دیکھا۔لیکن سُنا ہے کہ جوانی میں گھوڑے کی سواری بہت فرمائی ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ پالکی سے مراد وہ سواری ہے جسے کہا لوگ کندھوں پر اٹھاتے ہیں اور وہ کندھوں کے برابر ہی اونچی رہتی ہے۔964 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میرمحمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیر کے لئے زیادہ تر بسر اواں یا بشر کی طرف تشریف لے جاتے تھے۔کبھی کبھی منگل یا بٹالہ کی سڑک پر بھی جاتے تھے۔اور شاذ و نادر کسی اور طرف بھی۔اور عام طور پر ڈیڑھ سے دو میل تک باہر نکل جاتے تھے۔اور جب حضرت صاحب سیر کو جاتے یا گھر میں ٹہلتے تو تیز قدم چلا کرتے تھے۔آپ کی چال مستعد جوانوں کی سی تھی۔