سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 816
سیرت المہدی 816 حصہ سوم کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو جو قید ہوئی تھی کیا وہ مجرم ہیں یا کہ ان کو بری سمجھا جاتا ہے۔جب میں نے یہ واقعہ پیش کیا۔تو وہ ایسا خاموش ہوا کہ کوئی جواب اس سے بن نہ پڑا۔لوگوں نے بھی اس کا بُراحال کیا۔اس پر وہ بہت ہی نادم اور شرمندہ ہوا۔پھر میں نے اس کو اس طور پر سمجھایا کہ حضرت صاحب نے اس مقدمہ سے پہلے شائع کیا ہوا تھا کہ ایک تو مجھے یہ الہام ہوا ہے کہ ان الله مع الذين اتقوا والذين هم محسنون یعنی خدا تعالیٰ اس فریق کے ساتھ ہے جو متقی ہے اور دوسرا الہام یہ تھا کہ عدالت عالیہ سے بری کیا جائے گا“۔اب دونوں کو ملا کر دیکھو کہ یہ کیسی عظیم الشان صداقت ہے جو پوری ہوئی۔956 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمداسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب ایک دفعہ کسی شخص کا ذکر سُنانے لگے کہ وہ عورت پر سخت عاشق ہو گیا۔اور باوجود ہزار کوشش کے وہ اس عشق کو دل سے نہ نکال سکا۔آخر حضرت صاحب کے پاس آیا۔اور طالب دُعا ہوا۔حضرت صاحب نے مولوی صاحب سے فرمایا کہ مجھے خدا کی طرف سے معلوم ہوا ہے کہ یہ شخص اس عورت سے ضرور بدکاری کرے گا۔مگر میں بھی پورے زور سے اس کے لئے دُعا کرونگا چنانچہ وہ شخص قادیان ٹھہرا رہا۔اور حضور دُعا کرتے رہے۔یہاں تک کہ اس نے ایک روز مولوی صاحب سے کہا کہ آج رات خواب میں میں نے اس عورت کو دیکھا اور خواب میں ہی اس سے مباشرت کی اور میں نے اس دوران میں اس کی شرمگاہ کو جہنم کے گڑھے کی طرح دیکھا۔جس سے مجھے اس سے اس قدر خوف اور نفرت پیدا ہوئی کہ یکدم وہ آتشِ عشق ٹھنڈی ہوگئی اور وہ محبت کی بے قراری سب دل سے نکل گئی۔بلکہ دل میں دوری پیدا ہوگئی اور خدا کے فضل اور حضور کی دعا کی برکت سے میں بدکاری سے بھی محفوظ رہا اور وہ جنون بھی جاتا رہا۔اور حضور نے جو بات میری بابت کہی تھی وہ ظاہر رنگ سے بدل کر خدا نے خواب میں پوری کرا دی۔یعنی میں نے اس سے تعلق بھی کر لیا اور ساتھ ہی مجھے گناہ سے بھی بچالیا۔غالبا یہ شخص سیالکوٹ کا رہنے والا تھا اور متمول آدمی تھا اور اُس نے حضرت صاحب کی بیعت بھی کی تھی۔مگر تعلق کو آخر تک نہیں نبھایا۔957 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ