سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 815
سیرت المہدی 815 حصہ سوم کی معرفت دریافت کیا کہ ان کی کہاں مرضی ہے۔چنانچہ حضرت میاں صاحب نے بھی والدہ ناصر احمد کو انتخاب فرمایا اور اس کے بعد شادی ہو گئی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ بھی تاکید فرمایا کرتے تھے کہ شادی سے پہلے لڑکی کو دیکھ کر تسلی کر لینی چاہئے کہ کوئی نقص نہ ہو۔چنانچہ ایک دفعہ ایک مہاجر صحابی کو جو ایک انصاری لڑکی سے شادی کرنے لگا تھا فرمایا کہ لڑکی کو دیکھ لینا، کیونکہ انصار کی لڑکیوں کی آنکھ میں عموماً نقص ہوتا ہے۔اور حضرت صاحب نے جو مولوی محمد علی صاحب کی شادی کے وقت شکل وصورت کی تفصیل کے متعلق سوالات کئے تو یہ غالباً مولوی صاحب کے منشاء کے تحت کیا ہوگا۔955 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں امام الدین صاحب سیکھوانی نے مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ مولوی کرم الدین جہلمی کا مقدمہ گورداسپور میں تھا۔تو مجسٹریٹ نے پانچ صد روپیہ حضرت صاحب کو اور دوصد حکیم فضل دین صاحب کو اور پچاس روپیہ مولوی کرم الدین کو جرمانہ کیا تھا۔حضرت صاحب کی طرف سے اپیل ہوئی اور کل جرمانہ سات صد روپیہ واپس مل گیا مگر مولوی کرم الدین کا جرمانہ قائم رہا۔اس فیصلہ کے بعد موضع اٹھوال ضلع گورداسپور میں جماعت احمدیہ نے جلسہ کیا اور بعض علماء قادیان سے بھی وہاں گئے۔کچھ تقاریر ہوئیں۔بعد میں بارش شروع ہوگئی۔اور بہت سے احمدی وغیر احمدی دوست ایک بڑے مکان میں جمع ہو کر بیٹھ گئے۔اس وقت علی محمد درزی ساکن سوہل نے تقریر شروع کردی که مولوی کرم دین کو فتح ہوئی ہے کیونکہ مرزا صاحب پر جرمانہ ہوا ہے۔میں نے جب یہ آواز سنی تو میں نے اُسے کہا میرے سامنے آکر بیان کرو۔اس نے آکر تقریر شروع کر دی۔میں نے کہا سنو! اس مقدمے میں حضرت مرزا صاحب کی فتح ہوئی ہے۔اس نے کہا کہ مرزا صاحب نے کہا تھا کہ میری فتح ہوگی مگر گورداسپور میں جرمانہ ہوا۔میں نے کہا کہ اگر اپیل سے جرمانہ واپس آجائے تو کیا پھر بھی سزا قائم رہتی ہے؟ کہنے لگا ہاں سزا قائم رہتی ہے۔میں نے تمام حاضرین کو مخاطب کر کے کہا کہ کیا آپ لوگ شہادت دے سکتے ہیں کہ جو شخص اپیل میں بری ہو جائے اس پر پہلا جرم قائم رہتا ہے یا کہ وہ بری ہو جاتا ہے۔تمام دوستوں نے کہا کہ وہ بری ہو جاتا ہے۔اور کوئی جرم باقی نہیں رہتا۔پھر بھی وہ انکار ہی کرتا رہا۔میں نے کہا