سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 75 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 75

سیرت المہدی 75 حصہ اوّل غرض سے ان کے پاس لے چلا ہوں۔جب میں پاس گیا تو انہوں نے مجھے نہایت شفقت سے اپنے پاس پلنگ پر بٹھا لیا۔اس وقت میری ایسی حالت ہو گئی کہ جیسے ایک بیٹا اپنے باپ سے بچھڑا ہوا سالہا سال کے بعد ملتا ہے اور قد رتا اس کا دل بھر آتا ہے یا شاید فرما یا اس کو رقت آجاتی ہے اور میرے دل میں اس وقت یہ بھی خیال آیا کہ احکم الحاکمین یا فرما یارب العالمین ہیں اور کس محبت اور شفقت سے انہوں نے مجھے اپنے پاس بٹھا لیا ہے۔اس کے بعد میں نے وہ احکام جو لکھے تھے دستخط کرانے کی غرض سے پیش کئے۔انہوں نے قلم سرخی کی دوات میں جو پاس پڑی تھی ڈبویا اور میری طرف جھاڑ کر دستخط کر دیئے۔میاں عبداللہ صاحب کہتے ہیں کہ حضرت صاحب نے قلم کے جھاڑنے اور دستخط کرنے کی حرکتوں کو خود اپنے ہاتھ کی حرکت سے بنایا تھا کہ یوں کیا تھا۔پھر حضرت صاحب نے فرمایا یہ وہ سرخی ہے جو اس قلم سے نکلی ہے۔پھر فرمایا دیکھو کوئی قطرہ تمہارے اوپر بھی گرا۔میں نے اپنے گرتے کو ادھر اُدھر سے دیکھ کر عرض کیا کہ حضور میرے پر تو کوئی نہیں گرا۔فرمایا کہ تم اپنی ٹوپی پر دیکھو۔ان دنوں میں ململ کی سفید ٹوپی میرے سر پر ہوتی تھی میں نے وہ ٹوپی اتار کر دیکھی تو ایک قطرہ اس پر بھی تھا۔مجھے بہت خوشی ہوئی اور میں نے عرض کیا حضور میری ٹوپی پر بھی ایک قطرہ ہے۔پھر میرے دل میں یہ شوق پیدا ہوا کہ یہ گر تہ بڑا مبارک ہے اس کو تبرکاً لے لینا چاہئیے۔پہلے میں نے اس خیال سے کہ کہیں حضور جلدی انکار نہ کر دیں حضور سے مسئلہ پوچھا کہ حضور کسی بزرگ کا کوئی متبرک کپڑے وغیرہ کالے کر رکھنا جائز ہے؟ فرمایا ہاں جائز ہے۔رسول اللہ ﷺ کے تبرکات صحابہ نے رکھے تھے۔پھر میں نے عرض کیا کہ حضور خدا کے واسطے میرا ایک سوال ہے۔فرمایا کہو کیا ہے؟ عرض کیا کہ حضور یہ گر نہ تبسر کا مجھے دے دیں۔فرمایا نہیں یہ تو ہم نہیں دیتے۔میں نے عرض کیا حضور نے ابھی تو فرمایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے تبرکات صحابہ نے رکھے۔اس پر فرمایا کہ یہ گر تہ میں اس واسطے نہیں دیتا کہ میرے اور تیرے مرنے کے بعد اس سے شرک پھیلے گا اس کی لوگ پوجا کریں گے۔اس کو لوگ زیارت بنالیں گے۔میں نے عرض کیا کہ حضور رسول اللہ ﷺ کے تبرکات سے شرک نہ پھیلا۔فرمایا میاں عبداللہ دراصل بات یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے تبرکات جن صحابہ کے پاس تھے وہ مرتے ہوئے وصیتیں کر گئے کہ ان تبرکات کو ہمارے کفن کے ساتھ دفن کر دینا چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔جو تبرک جن صحابہ کے پاس تھا وہ ان کے