سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 796 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 796

سیرت المہدی 796 حصہ سوم کچھ دنوں میں اس مضمون کے سب پہلو واضح اور مدلل ہو جاتے۔اس کے بعد میں دیکھتا کہ پھر وہی مضمون آپ کی کسی کتاب میں آجا تا اور شائع ہو جاتا۔924 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تصنیف کے بارے میں یہ طریق نہیں تھا کہ جو عبارت ایک دفعہ کھی گئی اسی کو قائم رکھتے تھے بلکہ بار بار کی نظر ثانی سے اس میں اصلاح فرماتے رہتے تھے اور بسا اوقات پہلی عبارت کو کاٹ کر اس کی جگہ نئی عبارت لکھ دیتے تھے۔اصلاح کا یہ سلسلہ کتابت اور طباعت کے مراحل میں بھی جاری رہتا تھا۔میں نے حضرت صاحب کے مسودات اور پروفوں میں کثرت کے ساتھ ایسی اصلاح دیکھی ہے۔25 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میر عنایت علی شاہ صاحب لدھیانوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ اوائل زمانہ میں قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنا ایک رؤیا میر عباس علی صاحب سے بیان کیا تھا جو یہ تھا کہ ہم کسی شہر میں گئے ہیں اور وہاں کے لوگ ہم سے برگشتہ ہیں۔اور انہوں نے کچھ اپنے شکوک دریافت کئے۔جن کا جواب دیا گیا۔لیکن وہ ہمارے خلاف ہی رہے۔نماز کے لئے کہا کہ آؤ تم کو نماز پڑھائیں تو جواب دیا کہ ہم نے پڑھی ہوئی ہے اور خواب میں یہ واقعہ ایک ایسی جگہ پیش آیا تھا جہاں ہماری دعوت تھی۔اس وقت ہم کو ایک کھلے کمرہ میں بٹھایا گیا۔لیکن اس میں کھانا نہ کھلایا گیا۔پھر بعد میں ایک تنگ کمرہ میں بٹھلایا گیا۔اور اس میں بڑی دقت سے کھانا کھایا گیا۔آپ نے یہ رو یا بیان کر کے فرمایا کہ شاید وہ تمہارا لدھیانہ ہی نہ ہو۔پھر یہ رویا لدھیانہ میں ہی منشی رحیم بخش صاحب کے مکان پر پورا ہوا۔حضرت صاحب لدھیانہ تشریف لے گئے اور منشی رحیم بخش صاحب کے مکان پر دعوت ہوئی۔جہاں پہلے ایک کھلے کمرہ میں بٹھا کر پھر ایک تنگ کمرہ میں کھانا کھلایا گیا۔پھر وہاں ایک شخص مولوی عبدالعزیز صاحب کی طرف سے منشی احمد جان صاحب کے پاس آیا اور آ کر کہا کہ مولوی صاحب کہتے ہیں کہ قادیان والے مرزا صاحب ہمارے ساتھ آکر بحث کر لیں یا کو توالی چلیں۔اس پر منشی صاحب نے کہا کہ ہم نے کونسا قصور کیا ہے کہ کو تو الی چلیں۔اگر کسی نے اپنے شکوک رفع کروانے ہیں تو محلہ صوفیاں میں آجائے۔جہاں حضرت