سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 795 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 795

سیرت المہدی 795 حصہ سوم کے کھانے میں پر ہی نہیں تھا۔آجکل جو عموماً پر ہیز کیا جاتا ہے۔اس کی وجہ مذہبی نہیں بلکہ اقتصادی ہے۔922 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ۱۸۹۳ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام چند روز کے لئے ہمارے ہاں بمعہ اہل و عیال فیروز پور چھاؤنی تشریف لائے۔ایک دن وہاں ایک شیخ صاحب کی کوٹھی پر گئے جو انگریزی اشیاء کے تاجر تھے۔شیخ محمد جان صاحب وزیر آبادی چونکہ ان کے واقف تھے اس لئے وہ حضور کو یہ دُکان دکھانے لے گئے۔وہاں مالک دُکان نے ایک کھلونا دکھایا جس میں ایک بلی اور ایک چوہا تھا۔اس کو کنجی دی جاتی تو چوہا آگے بھاگتا تھا اور بلی اس کے پیچھے دوڑتی تھی۔اسے دیکھ کر کچھ دیر تو مسیح ناصری کے پرندوں کا ذکر ہوتا رہا۔پھر آپ چلے آئے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بھی جن کی عمر اس وقت چار سال کے قریب تھی ہمراہ تھے۔اور کسی دوست یا ملا زم کی گود میں تھے۔جب کچھ راستہ چلے آئے تو میاں صاحب نے اس شخص کی گود میں اینٹھنا شروع کیا۔پھر کچھ بگڑ کر لاتیں مارنے لگے اور آخر رونا شروع کر دیا۔بہت پوچھا مگر کچھ نہ بتایا۔آخر بار بار پوچھنے پر ہاتھ سے واپس چلنے کا اشارہ کیا۔اس پر کسی نے کہا شاید اس دوکان پر بلی اور چوہا پھر دیکھنا چاہتے ہیں۔یہ کہنا تھا کہ میاں صاحب روتے روتے چیخ کر کہنے لگے کہ میں نے بلی چوہالینا ہے۔اس پر حضرت صاحب نے کہا کہ میاں گھر چل کر منگا دیں گے مگر وہ نہ مانے۔آخر حضرت صاحب سب جماعت کے ہمراہ واپس آئے اور تاجر کی کوٹھی پر پہنچ کر دروازہ پر ٹھہر گئے۔شیخ محمد جان صاحب اندر جاکر وہ کھلونا لے آئے۔حضرت صاحب نے کہا اس کی قیمت کیا ہے؟ میں دیتا ہوں مگر شیخ محمد جان صاحب نے کہا کہ اس کوٹھی کے مالک ہمارے دوست اور ملنے والے ہیں اور یہ ایک حقیر چیز ہے۔وہ حضور سے ہرگز قیمت نہیں لیں گے۔اس پر آپ نے وہ کھلونا میاں صاحب کو دیدیا۔اور سب لوگ گھر واپس آئے۔923 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میرمحمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ مختلف زمانوں میں حضور علیہ السلام کے زیر نظر مختلف مضامین رہا کرتے تھے۔میں نے دیکھا کہ آپ بعض دنوں میں کسی خاص مضمون پر ہر مجلس میں ذکر کرتے۔تقریریں کرتے اور مختلف پہلوؤں سے اس پر روشنی ڈالتے یہاں تک کہ