سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 797 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 797

سیرت المہدی 797 حصہ سوم صاحب ٹھہرے ہوئے ہیں۔اس رویا کے پورا ہونے پر لالہ ملا وامل نے شہادت دی کہ واقعی وہ رویا پورا ہوگیا۔اور خاکسار بھی حضرت صاحب کے ساتھ اس دعوت میں شریک تھا جہاں رویا پورا ہوا۔926 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کر کے واپس ملازمت پر گیا۔تو کچھ روز اپنی بیعت کو خفیہ رکھا کیونکہ مخالفت کا زور تھا۔اور لوگ میرے معتقد بہت تھے۔اس وجہ سے کچھ کمزوری سی دکھائی یہاں تک کہ میں نے اپنے گھر کے لوگوں سے بھی ذکر نہ کیا۔لیکن رفتہ رفتہ یہ بات ظاہر ہوگئی اور بعض آدمی مخالفت کرنے لگے لیکن وہ کچھ نقصان نہ کر سکے۔گھر کے لوگوں نے ذکر کیا کہ بیعت تو آپ نے کر لی ہے لیکن آپ کا پہلا پیر ہے اور وہ زندہ موجود ہے، وہ ناراض ہو کر بددعا کرے گا۔ان کی آمد ورفت اکثر ہمارے پاس رہتی تھی۔میں نے کہا کہ میں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے بیعت کی ہے۔اور جن کے ہاتھ پر بیعت کی ہے وہ مسیح اور مہدی کا درجہ رکھتے ہیں۔باقی کوئی خواہ کیسا ہی نیک یا ولی کیوں نہ ہو۔وہ اس درجہ کو نہیں پہنچے سکتا۔اور ان کی بددعا کوئی بداثر نہیں کرے گی۔کیونکہ الْاَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ۔میں نے اپنے خدا تعالیٰ کو خوش کرنے کے لئے یہ کام کیا ہے۔اپنی نفسانی غرض کے لئے نہیں کیا۔الغرض وہ میرے مرشد کچھ عرصہ بعد بدستور سابق میرے پاس آئے اور انہوں نے میری بیعت کا معلوم کر کے مجھ کو کہا کہ آپ نے اچھا نہیں کیا۔جب مرشد آپ کا موجود ہے تو اس کو چھوڑ کر آپ نے یہ کام کیوں کیا؟ آپ نے ان میں کیا کرامت دیکھی؟ میں نے کہا۔کہ میں نے ان کی یہ کرامت دیکھی ہے کہ ان کی بیعت کے بعد میری رُوحانی بیماریاں بفضل خدا دور ہوگئی ہیں اور میرے دل کو تسلی حاصل ہو گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں بھی ان کی کرامت دیکھنا چاہتا ہوں۔کہ اگر تمہارا لڑ کا ولی اللہ ان کی دُعا سے اچھا ہو جائے تو میں سمجھ لونگا کہ آپ نے مرشد کامل کی بیعت کی ہے۔اور اس کا دعویٰ سچا ہے۔اس وقت میرے لڑکے ولی اللہ کی ٹانگ بسبب ضرب کے خشک ہوکر چلنے کے قابل نہیں رہی تھی۔ایک لاٹھی بغل میں رکھتا تھا۔اور اس کے سہارے چلتا تھا اوراکثر دفعہ گر پڑتا تھا۔اس بات پر تھوڑا عرصہ گذرا تھا کہ باوجود اسکے کہ پہلے کئی ڈاکٹروں اور سول سرجنوں کے علاج کئے