سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 780 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 780

سیرت المہدی 780 حصہ سوم علیہ السلام کے زمانہ میں جب لوگ حضور سے ملنے قادیان آتے یا جلسہ اور عیدین وغیرہ کے موقعوں پر آتے تو بہت دیر تک ٹھہرا کرتے تھے۔آج کل لوگ ان موقعوں پر بہت کم آتے ہیں اور آتے ہیں تو بہت کم ٹھہرتے ہیں۔ان ایام میں بعض لوگ پیدل بھی اپنے وطن سے آتے تھے۔ایک شخص وریام نامی تھا جو جہلم سے پیدل آتا تھا۔اور ایک مولوی جمال الدین صاحب سید والہ ضلع شیخو پورہ کے تھے جو بمعہ ایک قافلہ کے پیدل کوچ کرتے ہوئے قادیان آیا کرتے تھے۔حضور علیہ السلام کا بھی قاعدہ تھا کہ کثرت سے ملتے رہتے اور قادیان میں بار بار آنے کی تاکید فرماتے رہتے تھے۔889 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمداسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میاں الہ دین فلاسفر اور پھر اس کے بعد مولوی یار محمد صاحب کو ایک زمانہ میں قبروں کے کپڑے اتار لینے کی دھت ہوگئی تھی۔یہاں تک کہ فلاسفر نے ان کو بیچ کر کچھ روپیہ بھی جمع کر لیا۔ان لوگوں کا خیال تھا کہ اس طرح ہم بدعت اور شرک کو مٹاتے ہیں۔حضرت صاحب نے جب سنا تو اس کام کو ناجائز فرمایا۔تب یہ لوگ باز آئے اور وہ روپیہ اشاعت اسلام میں دے دیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اسلام نے نہ صرف ناجائز کاموں سے روکا ہے بلکہ جائز کاموں کے لئے ناجائز وسائل کے اختیار کرنے سے بھی روکا ہے۔890 بسم الله الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میاں اله دین عرف فلاسفر کو بعض لوگوں نے کسی بات پر مارا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو علم ہوا تو آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ اگر وہ عدالت میں جائے اور تم وہاں اپنے قصور کا اقرار کر لو تو عدالت تم کو سزاد یگی اور اگر جھوٹ بولو اور انکار کردو۔تو پھر تمہارا میرے پاس ٹھکانا نہیں۔غرض آپ کی ناراضگی سے ڈر کر اُن لوگوں نے اسی وقت فلاسفر سے معافی مانگی اور اس کو دودھ پلایا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس واقعہ کا ذکر روایت نمبر ۴۳۴ میں بھی ہو چکا ہے اور مارنے کی وجہ یہ تھی کہ فلاسفر صاحب منہ پھٹ تھے۔اور جو دل میں آتا تھا وہ کہہ دیتے تھے اور مذہبی بزرگوں کے احترام کا خیال نہیں رکھتے تھے۔چنانچہ کسی ایسی ہی حرکت پر بعض لوگ انہیں مار بیٹھے تھے مگر حضرت مسیح موعود نے اسے