سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 781
سیرت المہدی 781 حصہ سوم پسند نہیں فرمایا۔آجکل فلاسفر صاحب اسی قسم کی حرکات کی وجہ سے جماعت سے خارج ہو چکے ہیں۔891 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میں نے پہلی مرتبہ دسمبر ۱۹۰۲ء میں بموقعہ جلسہ سالانہ حضرت احمد علیہ السلام کو دیکھا۔حضرت سید عبداللطیف صاحب شہید کا بل بھی ان ایام میں قادیان میں مقیم تھے۔حضرت اقدس ان سے فارسی زبان میں گفتگو فرمایا کرتے تھے۔892 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب میں پہلی مرتبہ قادیان آیا تو حضرت اقدس ان ایام میں حضرت مولانا عبدالکریم صاحب کی اقتدا میں نماز پڑھا کرتے تھے اور مسجد مبارک میں جو گھر کی طرف کو ایک کھڑکی کی طرز کا دروازہ ہے اس کے قریب دیوار کے ساتھ کھڑے ہوا کرتے تھے۔بحالت نماز ہاتھ سینہ پر باندھتے تھے اور اکثر اوقات نماز مغرب سے عشاء تک مسجد کے اندر احباب میں جلوہ افروز ہو کر مختلف مسائل پر گفتگو فرماتے تھے۔893 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک زمانہ میں حضرت اقدس حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کے ساتھ اس کوٹھڑی میں نماز کے لئے کھڑے ہوا کرتے تھے جو مسجد مبارک میں بجانب مغرب تھی۔مگر ۱۹۰۷ء میں جب مسجد مبارک وسیع کی گئی۔تو وہ کوٹھڑی منہدم کر دی گئی۔اس کو ٹھری کے اندر حضرت صاحب کے کھڑے ہونے کی وجہ اغلبا یہ تھی کہ قاضی یار محمد صاحب حضرت اقدس کو نماز میں تکلیف دیتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ قاضی یار محمد صاحب بہت مخلص آدمی تھے۔مگر ان کے دماغ میں کچھ خلل تھا۔جس کی وجہ سے ایک زمانہ میں ان کا یہ طریق ہو گیا تھا کہ حضرت صاحب کے جسم کو ٹولنے لگ جاتے تھے اور تکلیف اور پریشانی کا باعث ہوتے تھے۔894 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضور مسیح موعود علیہ السلام نکاح کے معاملہ میں قوم اور کفو کو تر جیح دیتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ لوگوں نے بات کو بڑھالیا ہے مگر اس میں شبہ نہیں کہ عام حالات میں اپنی قوم کے اندر اپنے کفو میں شادی کرنا کئی لحاظ سے اچھا ہوتا ہے۔مگر یہ خیال کرنا کہ کسی حالت میں بھی