سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 779 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 779

سیرت المہدی 779 حصہ سوم ایک دفعہ ڈاکٹر عبداللہ صاحب نے مجھ سے ذکر کیا کہ میں نے ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دریافت کیا کہ کبھی حضور نے فرشتے بھی دیکھتے ہیں؟ اس وقت حضور بعد نماز مغرب مسجد مبارک کی چھت پر شہ نشین کی بائیں طرف کے مینار کے قریب بیٹھے تھے۔فرمایا کہ اس مینار کے سامنے دو فرشتے میرے سامنے آئے۔جن کے پاس دو شیریں روٹیاں تھیں اور وہ روٹیاں انہوں نے مجھے دیں اور کہا کہ ایک تمہارے لئے ہے اور دوسری تمہارے مریدوں کے لئے ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کا یہ رویا چھپ چکا ہے۔مگر الفاظ میں کچھ اختلاف ہے۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ مکرم ڈاکٹر عبدالستار شاہ صاحب اس وقت جو جنوری ۱۹۳۹ء ہے وفات پاچکے ہیں اور جن ڈاکٹر عبداللہ صاحب کا اس روایت میں ذکر ہے اس سے شیخ محمد عبداللہ نومسلم مراد ہیں۔جو افسوس ہے کہ کچھ عرصہ سے بیعت خلافت سے منحرف ہیں۔886 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میرمحمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام عورتوں اور لڑکیوں کے لئے کسی قدر زیور اور رنگین کپڑے اور ہاتھوں میں مہندی پسند فرماتے تھے اور آجکل جو عورتوں کا مردانہ فیشن دنیا میں مروج ہوتا جارہا ہے وہ ان دنوں میں بہت کم تھا۔اور حضور کو پسند نہ تھا۔887 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک دفعہ سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراسی نے ایک پارسل نمک لگی ہوئی یعنی محفوظ کی ہوئی مچھلی کا بھیجا۔وہ مچھلی اس علاقہ میں نہایت اعلیٰ سمجھی جاتی تھی۔حضرت صاحب نے بہت شوق سے وہ پارسل کھلوایا۔مچھلی کا کھلنا تھا کہ تمام مکان بدبو سے بھر گیا۔(دراصل مچھلی سڑی ہوئی نہ تھی۔بلکہ اس میں ایسی ہی بساندھ ہوتی ہے۔وہاں کے لوگ اُسے بھون کر کھاتے ہیں اور واقعی نہایت لذیذ ہوتی ہے۔مگر بساندھ اور بد بو برابر رہتی ہے۔) حضرت صاحب نے فرمایا۔کہ اسے لے جاؤ اور گاؤں سے دور لے جا کر ڈھاب کے کنارے دفن کر دو۔اس میں سخت بد بو ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کو بد بو سے بہت نفرت تھی۔888 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود