سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 774 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 774

سیرت المہدی 774 حصہ سوم رسول یہ دیکھتے ہیں کہ بظاہر مایوسی کی حالت پیدا ہوگئی ہے اور خیال کرتے ہیں کہ ہم سے جو وعدہ ہوا تھا شاید اس کے کچھ اور معنے تھے تو ایسے وقت میں ہمارے فرشتے ان کی نصرت کے لئے پہنچ جاتے ہیں اور وہ بات جو بظاہر بگڑی ہوئی نظر آتی تھی پھر سنبھل جاتی ہے۔876 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نور محمد صاحب ساکن فیض اللہ چک نے مجھ سے بیان کیا کہ ہمارے دوستوں میں سے ایک شخص چراغ علی نامی تھصہ غلام نبی کے رہنے والے تھے اور وہ حافظ حامد علی صاحب کے چچا تھے ، ان کو شادی کی ضرورت تھی۔ہم نے متفق ہو کر ان کی شادی موضع کھارہ میں کروادی۔مگر وہ اس شادی کے چند روز بعد ہی فوت ہو گئے۔ہم نے شادی کے موقعہ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مشورہ نہ کیا تھا۔جب حضور کو معلوم ہوا کہ اس کی شادی ہو چکی ہے تو آپ نے فرمایا کہ میاں حامد علی تم نے ہم کو کیوں نہ بتایا کہ اس کی شادی کرنے لگے ہیں۔اس کی شادی نہیں کرنی چاہیئے تھی کیونکہ اس کو ضعف جگر کا مرض 66 تھا اور موجودہ حالت میں وہ شادی کے قابل نہیں تھا۔چنانچہ وہ شادی کے چند روز بعد فوت ہو گئے۔877 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے احباب کو جب خط لکھتے تو یا تو حِبّى فى الله “ یا مکر می اخویم لکھ کر مخاطب کرتے تھے۔کئی دفعہ مجھے ڈاک میں ڈالنے کو لفافے دیتے تو میں پتے دیکھتا کہ کس کے نام کے خط ہیں سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراسی اور زین الدین ابراہیم صاحب انجینئر بمبئی اور میاں غلام نبی صاحب سیٹھی راولپنڈی کے پتے مجھے اب تک یاد ہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ تینوں اصحاب اس وقت جو جنوری ۱۹۳۹ء ہے فوت ہو چکے ہیں۔کُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَان وَيَبْقَى وَجُهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَام - (الرحمن: ۲۸،۲۷) 878 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کواگر تیم کرناہوتا تو بسا اوقات تکیہ بالحاف پر ہی ہاتھ مار کر تیم کرلیا کرتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ تکیہ یا لحاف میں سے جو گردنکلتی ہے وہ تیم کی غرض سے کافی ہوتی