سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 764
سیرت المہدی 764 حصہ سوم اور حقیقت ہی باطل ہو جاتی ہے۔858 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی محمد اسمعیل صاحب سیالکوٹی نے مجھ سے بیان کیا کہ ڈاکٹر سرمحمد اقبال جوسیالکوٹ کے رہنے والے تھے ان کے والد کا نام شیخ نورمحمد تھا۔جن کو عام لوگ شیخ نتھو کہ کر پکارتے تھے۔شیخ نور محمد صاحب نے غالباً ۱۸۹۱ء یا ۱۸۹۲ء میں مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم اور سید حامد شاہ صاحب مرحوم کی تحریک پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی تھی۔ان دنوں سر محمد اقبال سکول میں پڑھتے تھے اور اپنے باپ کی بیعت کے بعد وہ بھی اپنے آپ کو احمدیت میں شمار کرتے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے معتقد تھے چونکہ سرا قبال کو بچپن سے ہی شعر و شاعری کا شوق تھا۔اس لئے ان دنوں میں انہوں نے سعد اللہ لدھیانوی کے خلاف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تائید میں ایک نظم بھی لکھی تھی۔مگر اس کے چند سال بعد جب سرا قبال کا لج میں پہنچے۔تو ان کے خیالات میں تبدیلی آگئی۔اور انہوں نے اپنے باپ کو بھی سمجھا بجھا کراحمدیت سے منحرف کر دیا۔چنانچہ شیخ نورمحمد صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں ایک خط لکھا۔جس میں یہ تحریر کیا کہ سیالکوٹ کی جماعت چونکہ نوجوانوں کی جماعت ہے اور میں بوڑھا آدمی ان کے ساتھ چل نہیں سکتا۔لہذا آپ میرا نام اس جماعت سے الگ رکھیں۔اس پر حضرت صاحب کا جواب میر حامد شاہ صاحب مرحوم کے نام گیا۔جس میں لکھا تھا۔کہ شیخ نور محمد کو کہد یویں کہ وہ جماعت سے ہی الگ نہیں بلکہ اسلام سے بھی الگ ہیں۔اس کے بعد شیخ نور محمد صاحب نے بعض اوقات چندہ وغیرہ دینے کی کوشش کی لیکن ہم نے قبول نہ کیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھ سے میاں مصباح الدین صاحب نے بیان کیا کہ ان سے کچھ عرصہ ہوا ڈاکٹر بشارت احمد صاحب نے بیان کیا تھا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۹۱ء یا ۱۸۹۲ء میں سیالکوٹ تشریف لے گئے تھے اور آپ نے وہاں ایک تقریر فرمائی تھی جس میں کثرت کے ساتھ لوگ شامل ہوئے تھے اور ارد گرد کے مکانوں کی چھتوں پر بھی ہجوم ہو گیا تھا۔تو اس وقت ڈاکٹر سرمحمد اقبال بھی وہاں موجود تھے اور کہہ رہے تھے کہ دیکھو شمع پر کس طرح پروانے گر رہے ہیں۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ ڈاکٹر سر محمد اقبال بعد میں سلسلہ سے نہ صرف منحرف ہو گئے تھے بلکہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں شدید طور پر