سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 763
سیرت المہدی 763 حصہ سوم عبدالکریم صاحب سیالکوٹی میرے ماموں زاد بھائی تھے اور میرے بہنوئی بھی تھے۔اور عمر میں مجھ سے قریباً آٹھ سال بڑے تھے۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت مجھ سے پہلے کی تھی اور اس کے بعد وہ ہمیشہ تحریک کرتے رہتے تھے۔کہ میں بھی بیعت کرلوں۔غالباً ۱۸۹۳ء میں ایک خواب کی بناء پر میں بھی بیعت کے لئے تیار ہو گیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بیعت کی غرض سے حاضر ہوا۔اس وقت اتفاق سے میرے سامنے ایک شخص حضرت صاحب کی بیعت کر رہا تھا۔میں نے جب بیعت کے یہ الفاظ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان سے سنے کہ میں دین کو دُنیا پر مقدم رکھوں گا “ تو میرا دل بہت ڈر گیا کہ یہ بہت بھاری ذمہ واری ہے جسے میں نہیں اٹھا سکوں گا۔اور میں بغیر بیعت کئے واپس لوٹ گیا۔اس کے بعد ایک دفعہ مولوی صاحب مرحوم نے میری ہمشیرہ سے کہا کہ محمد اسمعیل لوگوں کو تو تبلیغ کرتا رہتا تھا اور خود بیعت نہیں کرتا۔یہ بات سمجھ نہیں آتی۔میری ہمشیرہ نے مجھے جب یہ بات سُنائی۔تو میں نے خود مولوی صاحب سے پوچھا کہ کیا آپ نے ایسا کہا ہے؟ مولوی صاحب نے فرمایا۔ہاں۔تو میں نے مولوی صاحب کو کہا کہ میں علیحدگی میں بیعت کرونگا۔اور میرے دل میں یہ خیال تھا کہ میں حضرت کم صاحب سے عرض کرونگا کہ ہر بات میں دین کو دُنیا پر مقدم کرنے کا اقرار مجھ سے نہ لیں۔یعنی اس عہد سے مجھے معاف کر دیں۔مولوی صاحب نے فرمایا کہ ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا۔پھر اس کے کچھ عرصہ بعد میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔اور دل میں ارادہ تھا کہ حضرت صاحب پر اپنا خیال ظاہر کر دُوں گا۔لیکن جب حضرت صاحب مسجد میں تشریف لائے اور مغرب کی نماز کے بعد تشریف فرما ہوئے تو کسی شخص نے عرض کی کہ حضور کچھ آدمی بیعت کرنا چاہتے ہیں۔آپ نے فرمایا ”آجائیں اس ” آجائیں“ کے الفاظ نے میرے دل پر ایسا گہرا اثر کیا کہ مجھے وہ تمام خیالات بھول گئے اور میں بلا چون و چرا آگے بڑھ گیا اور بیعت کر لی۔بیعت کے بعد جب حضرت صاحب کو میرے ان خیالات کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ ہماری بیعت کی تو غرض ہی یہی ہے کہ ہم دینداری پیدا کریں۔اگر ہم دین کو مقدم کرنے کا اقرار نہ لیں تو کیا پھر یہ اقرار لیں کہ میں دُنیا کے کاموں کو مقدم کیا کروں گا۔اس صورت میں بیعت کی غرض و غایت