سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 765
سیرت المہدی 765 حصہ سوم مخالف رہے ہیں اور ملک کے نو تعلیم یافتہ طبقہ میں احمدیت کے خلاف جوز ہر پھیلا ہوا ہے اس کی بڑی وجہ ڈاکٹر سر محمد اقبال کا مخالفانہ پراپیگنڈا تھا مگر سر محمد اقبال کے بڑے بھائی شیخ عطا محمد صاحب درمیان میں کچھ عرصہ علیحدہ رہنے کے بعد حال ہی میں پھر سلسلہ میں شامل ہو گئے ہیں اور ان کے صاحبزادے یعنی سر محمد اقبال کے بھتیجے شیخ اعجاز احمد صاحب سب حج تو سلسلہ کے نہایت مخلص نو جوانوں میں سے ہیں۔859 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ دہلی میں ایک احمدی تھے۔وہ ایک دفعہ حضور علیہ السلام کی زندگی میں قادیان آئے۔حضور ایک دن سیر کو نکلے تو احمد یہ چوک میں سیر میں ہمراہ جانے والوں کے انتظار میں کھڑے ہو گئے۔ان دہلی والے دوست کا بچہ بھی پاس کھڑا تھا۔فرمایا کہ یہ آپ کا لڑکا ہے؟ انہوں نے عرض کیا۔جی ہاں۔پھر پوچھا اس کا کیا نام ہے انہوں نے کہا خورشید الاسلام مسکرا کر فرمانے لگے خورشید تو فارسی لفظ ہے اور ترکیب نام کی عربی ہے۔یہ غلط ہے۔صحیح نام شمس الاسلام ہے۔اس کے بعد ان صاحب نے اس بچہ کا نام بدل کر شمس الاسلام رکھدیا۔860 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے تھے پنجابی مثل ہے کہ کتا راتوں گھوڑ اسا توں۔آدمی باتوں“۔یعنی گفتا تو ایک رات میں چراغوں کا تیل چاٹ کر موٹا ہو جاتا ہے (اگلے زمانہ میں لوگ مٹی کے کھلے چراغ جلایا کرتے تھے۔اور ان میں تل یا سرسوں کا تیل استعمال ہوتا تھا۔جسے بعض اوقات کتنے چاٹ جایا کرتے تھے ) اور گھوڑ ا سات دن کی خدمت سے بارونق اور فربہ ہو جاتا ہے۔مگر آدمی کا کیا ہے وہ اکثر ایک بات سے ہی اتنا خوش ہو جاتا ہے کہ اس کے سنتے ہی اس کے چہرہ اور بدن پر رونق اور صحت اور سُرخی آجاتی ہے اور فوراً ذرا سی بات ہی ایک عظیم الشان تغیر اس کی حالت میں پیدا کر دیتی ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس موقع پر مجھے حضرت مسیح ناصری کا یہ قول یاد آ گیا ' آدمی روٹی سے نہیں جیتا اس میں طلبہ نہیں کہ انسانی خلقت میں خدا نے ایسا مادہ رکھا ہے کہ اس پر جذبات بہت گہرا اثر کرتے ہیں اور کسی کی ذرا سی محبت بھری نظر اس کے اندر زندگی کی لہر پیدا کر دیتی ہے اور ذرا سی چشم نمائی اس کی امنگوں پر اوس ڈال رہتی ہے۔