سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 755
سیرت المہدی 755 حصہ سوم کے لئے التجا کی۔حضور نے نہایت الفت اور محبت سے دلجوئی کے طور پر مندرجہ ذیل جواب خط کی پشت پر ارقام فرمایا:۔السلام علیکم ایک روپیہ پہنچا۔جزاکم اللہ تعالے خدا تمہیں پھر کامیاب کرے۔اس میں خدا تعالے کی حکمت ہے۔میں تمہارے دین اور دُنیا کے لئے دُعا کروں گا۔کچھ غم نہ کرو۔خدا داری چہ غم داری۔پھر پاس ہو جاؤ گے۔“ یہ خط برادرم ڈاکٹر صاحب موصوف کے پاس اب تک محفوظ ہے۔چنانچہ وہ دوسرے سال انٹرنس کے امتحان میں کامیاب ہوئے اور اب بفضلہ تعالے برہما میں سب اسسٹنٹ سرجن ہیں اور بہت عزت کی زندگی گذار رہے ہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس خط سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت صاحب سکول کے بچوں کو بھی کس محبت کے ساتھ یاد فرماتے تھے۔839 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خواجہ عبد الرحمن صاحب متوطن کشمیر نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ مارچ ۱۹۰۸ء میں جب ہم طلباء انٹرنس کے امتحان کے لئے امرتسر جانے لگے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے رخصت حاصل کرنے کے لئے حضور کے مکان پر حاضر ہوئے۔جب حضور کو اطلاع کرائی گئی تو دروازہ پر پہنچتے ہی حضور نے فرمایا۔خدا تم سب کو پاس کرے اس کے بعد ہم نے یکے بعد دیگرے حضور سے مصافحہ کیا۔ایک لڑکا مسمی عطا محمد بعد میں دوڑتا ہوا آیا۔اس وقت حضور ہمیں رخصت فرما کر چند قدم اندرون خانہ میں جاچکے تھے۔تو عطا محمد مذکور نے حضور کا پیچھے سے دامن پکڑ کر زور سے کہا۔”حضور میں رہ کا گیا ہوں۔اس پر حضور مڑ کر اسکی طرف متوجہ ہوئے۔اور مصافحہ کر کے اس کو بھی رخصت کیا۔یہ دوست اب سب اسٹنٹ سرجن ہیں۔خواجہ عبدالرحمن صاحب نے مزید بیان کیا کہ اس سال سولہ طلباء انٹرنس کے امتحان میں شامل ہوئے تھے۔جن میں سے کئی ایک تو اسی سال پاس ہو گئے۔اور باقی کچھ دوسرے سال پاس ہوئے اور بعض جو پھر بھی پاس نہ ہوئے۔وہ بھی حمد اللہ مسیح موعود علیہ السلام کی دُعا سے اچھی حیثیت میں ہیں۔اور اپنے