سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 754 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 754

سیرت المہدی 754 حصہ سوم پیچھے مسجد میں واپس آ گیا۔اور وہ لوگوں میں آکر بیٹھ گئے۔اتنے میں اندھا سکھ بولا۔” بھائیو۔پیار یو۔متر و۔میری اک عرض وا“ اس کا انداز یہ معلوم ہوتا تھا کہ وہ تقریر میں رخنہ ڈال کر اپنے مذہب کے متعلق کچھ پر چار کرنا چاہتا ہے۔جس پر قریب کے لوگوں نے اسے روک دیا کہ بولو نہیں وعظ ہو رہا ہے۔دومنٹ کے بعد پھر اس اندھے نے پہلے کی طرح کہا۔پھر لوگوں نے اُسے روک دیا۔اس پر نو جوان سکھ نے گالیاں دینی شروع کر دیں۔اس وقت پولیس کا انتظام تھا اور محمد بخش تھانیدار بھی آیا ہوتا تھا۔لوگوں نے تھانیدار کو کہا کہ دو سکھ مسجد میں گالیاں نکال رہے ہیں۔تھانہ دار اس وقت مرز انظام الدین کے دیوان خانہ میں کھڑا تھا۔اور دو سپاہی اس کے ساتھ تھے۔وہ گئے تو اُن سکھوں کو پکڑ کر دیوان خانہ میں لے گئے۔حضرت صاحب کے تقریر ختم کرنے کے دو گھنٹہ بعد کسی شخص نے آکر بتایا۔کہ تھانیدار نے ان سکھوں کو مارا ہے۔حضرت صاحب نے اسی وقت فرمایا کہ تھانیدار کو کہو کہ ان کو چھوڑ دے۔اس پر اس تھانیدار نے ان سکھوں کو چھوڑ دیا۔837 بسم الله الرحمن الرحیم۔خواجہ عبد الرحمن صاحب متوطن کشمیر نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا۔کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خانگی زندگی بھی اللہ تعالیٰ ہی کے کاموں میں گذرتی تھی۔ہر وقت یا تحریر کا کام ہوتا تھایا غور وفکر اور ذکر الہی کا۔کبھی میں نے حضور کو اپنے بچوں سے لاڈ کرتے نہیں دیکھا باوجود یکہ ان سے آپ کو بہت محبت تھی۔اور کبھی کسی خادمہ کو کوئی حکم دیتے بھی نہیں دیکھا۔حضور گھر میں بھی زیادہ کلام نہ کرتے تھے۔سنجیدہ اور متین رہتے تھے۔آپ بہت کم سوتے تھے۔اور بہت کم کھانا کھاتے تھے اور بعض اوقات ساری ساری رات لکھتے رہتے تھے۔اندرون خانہ میں بھی نہایت سادہ رہتے تھے۔یہ سب خانگی امور ایسے ہیں۔جو خدا کے فضل سے میرے دل میں گالنَّقْشِ فِی الْحَجَر ہیں اور بفضلہ تعالے دنیا کی کوئی نعمت اور کوئی بلا آنحضور علیہ السلام پر ایمان لانے سے مجھے نہیں روک سکتی۔کیونکہ میں نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوا ہے۔838 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خواجہ عبدالرحمن صاحب متوطن کشمیر نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ڈاکٹر گوہرالدین صاحب جب انٹرنس کے امتحان میں پہلی دفعہ ناکام ہوئے۔تو انہوں نے میرے روبرو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں ایک خط لکھا۔جس میں اپنی ناکامی کا تذکرہ کرتے ہوئے دعا