سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 756
سیرت المہدی 756 حصہ سوم اپنے کاروبار اور ملا زمتوں میں خوش زندگی گزار رہے ہیں۔840 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خواجہ عبد الرحمن صاحب متوطن کشمیر نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ جبکہ صاحبزادہ میرزا بشیر احمد صاحب (خاکسار مؤلف ) ابتداء میں مدرسہ ہائی سکول میں لوئر پرائمری میں داخل کرائے گئے۔تو ایک دن حضرت میر ناصر نواب صاحب ہائی سکول کے بورڈنگ میں تشریف لائے اور حافظ غلام محمد صاحب (سابق مبلغ ماریشس) سے فرمانے لگے۔کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے میاں بشیر احمد کو بورڈنگ میں داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔آپ ان کا خیال رکھا کریں۔خاکسار بھی اس وقت پاس ہی کھڑا تھا۔میر صاحب نے میرے متعلق فرمایا کہ یہ میاں صاحب کا بستہ گھر سے لایا اور لے جایا کرے گا۔صاحبزادہ صاحب اس کے بعد دن کو بورڈنگ میں ہی رہا کرتے تھے۔اور رات کو گھر چلے آتے تھے۔اور میں بستہ بردار غلام تھا۔حضرت ام المؤمنين سلمها الله تعالى ماہوار کچھ نقدی بھی عطا فرماتی تھیں۔مگر میرا اصل معاوضہ حضور کی خوشنودی اور دعا تھی۔841 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خواجہ عبد الرحمن صاحب متوطن کشمیر نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام گھر میں جب رفع حاجت کے لئے پاخانہ میں جاتے تھے تو پانی کا لوٹالا زم ساتھ لے جاتے تھے اور اندر طہارت کرنے کے علاوہ پاخانہ سے باہر آ کر بھی ہاتھ صاف کرتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کا طریق تھا کہ طہارت سے فارغ ہو کر ایک دفعہ سادہ پانی سے ہاتھ دھوتے تھے اور پھر مٹی مل کر دوبارہ صاف کرتے تھے۔842 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔کہ ایک شخص پچھتر سنگھ ریاست جموں کے تھے۔وہ قادیان آکر مسلمان ہو گئے۔نام ان کا شیخ عبدالعزیز رکھا گیا۔ان کو لوگ اکثر کہتے تھے کہ ختنہ کرالو۔وہ بیچارے چونکہ بڑی عمر کے ہو گئے تھے اس لئے ہچکچاتے تھے اور تکلیف سے بھی ڈرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ذکر کیا گیا کہ آیا ختنہ ضروری ہے۔فرمایا بڑی عمر کے آدمی کے لئے ستر عورت فرض ہے مگر ختنہ صرف سنت ہے۔اس لئے ان کے لئے ضروری نہیں کہ ختنہ کروائیں۔