سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 753
سیرت المہدی 753 حصہ سوم کے تھے۔مگر ان کا دماغ اور ذہن بڑے غضب کا تھا۔غرضیکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مصاحب اور رشتہ دار اور اولاد ہر ایک اس قدر گہرے طور پر حضرت صاحب کے رنگ میں رنگین ہو گئے تھے کہ بے انتہا جستجو کے بعد بھی کوئی آدمی ان میں کوئی عیب نہ نکال سکتا تھا۔میں خود پیروں کے خاندان میں پیدا ہوا ہوں۔اور پیروں فقیروں سے بیحد تعلقات اور رشتہ داریاں ہیں۔مجھے اس کے متعلق ایک حد تک تجربہ ہے۔وہ لوگ اپنے مریدوں میں بیٹھ کر جس قدر اپنی بزرگی جتاتے ہیں۔اسی قدر وہ در پردہ بدچلن اور بد اخلاق ہوتے ہیں کہ اپنے نفس، زبان، ہاتھ اور دل و آنکھ پر قابو نہیں رکھ سکتے۔اسی طرح ان کی اولا د اور رشتہ دار ہوتے ہیں۔اور جو دکھاوا ہوتا ہے وہ سب دکانداری کی باتیں ہوتی ہیں۔836 بسم اللہ الرحمن الرحیم محمد خاں صاحب ساکن گل منسج نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب کثرت سے لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس آنے لگے۔تو ایک مرتبہ حضرت صاحب نے مسجد اقصیٰ میں لیکچر دیا۔تین گھنٹہ تک تقریر فرماتے رہے۔اس روز لا ہور کے کئی آدمی بھی موجود تھے۔شیخ رحمت اللہ صاحب سوداگر بھی یہیں تھے۔اور قادیان کے ہندو بھی مسجد میں موجود تھے۔اس تقریر میں حضرت صاحب نے فرمایا کہ ایک زمانہ تھا کہ میں اکیلا ہی بٹالہ جایا کرتا تھا۔اور کبھی کبھی میرے ساتھ ملا وامل اور شرم پت بھی جایا کرتے تھے۔انہیں ایام میں خدا تعالیٰ نے مجھ کو کہا کہ میں تیری طرف آنے کے لئے لوگوں کے راستہ کو کثرت استعمال سے ایسا کر ڈونگا کہ ان میں گڑھے پڑ جائیں گے۔مگر تم نے دل میں گھبرانا نہیں۔خدا خود تیرا سارا سروسامان تیار کرے گا۔یہ خیال نہ کرنا کہ میں لوگوں کو رہائش کی جگہ اور کھانا کہاں سے مہتا کر کے دُوں گا۔آپ نے فرمایا۔اب دیکھ لو کہ خدا نے کس طرح میرے لئے ساز وسامان تیار کر دیا ہے کہ جتنے مہمان بھی آتے ہیں ان کا گزارہ بخیر و خوبی ہوتا ہے۔مگر قادیان کے لوگوں نے مجھے نہ مانا۔پھر اسی وقت جبکہ حضور یہ تقریر فرمارہے تھے میں کسی ضرورت کے لئے مسجد سے نیچے اترا تو مجھے دوسکھ ملے۔ایک اندھا تھا اور دوسرا جوان عمر تھا۔انہوں نے کچھ سنگترے اور سودا سلف خریدا ہوا تھا۔اندھے سکھ نے دوسرے کو کہا کہ ادھر سے چلو۔ذرا شلوگ بانی سن لیں۔پھر وہ دونوں مسجد کے اوپر چڑھ گئے اور میں بھی ان کے