سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 752 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 752

سیرت المہدی 752 حصہ سوم موجود ہیں۔مرزا عزیز احمد صاحب ایم۔اے بھی سرکاری ملازم ہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ ان کے دفتر والے ماتحت اور افسر بلکہ ہمسایہ تک ان کے چلن اور اخلاق کے مدح خواں ہیں۔اسی ضمن میں ایک بات عرض کرتا ہوں کہ ایک زمانہ میں حضرت میاں محمود احمد صاحب۔میاں محمد الحق صاحب اور میاں بشیر احمد صاحب تالاب کے کنارے بیڈ منٹن کھیلا کرتے تھے۔گوئیں بچہ تھا۔مگر میری فطرت میں تحقیق کا مادہ تھا۔کھڑے ہو کر گھنٹوں دیکھتا کہ یہ لوگ کھیل میں گالی گلوچ یا جھوٹ یا نخش کلامی بھی کرتے ہیں یا نہیں۔مگر میں نے ان حضرات کو دیکھا کہ کبھی کوئی جھگڑا نہ کرتے تھے۔حالانکہ کھیل میں اکثر جھگڑا ہو جایا کرتا ہے۔اسی طرح اکثر دفعہ میں میاں بشیر احمد صاحب و میاں شریف احمد صاحب کے ساتھ شکار کے لئے جایا کرتا تھا۔دونوں حضرات کے پاس ایک ایک ہوائی بندوق ہوا کرتی تھی اور پرندوں کا شکار کرتے تھے۔ہر جگہ میرا یہ مقصد ہوتا تھا کہ میں دیکھوں کہ ان لوگوں کے اخلاق کیسے ہیں۔پھر حضرت میاں محمود احمد صاحب مغرب کے بعد اکمل صاحب کی کوٹھڑی میں آکر بیٹھا کرتے تھے اور میں بھی وہاں بیٹھارہتا تھا۔شعر و شاعری اور مختلف باتیں ہوتی تھیں۔مگر میں نے کبھی کوئی ایسی ویسی بات نہ دیکھی۔بلکہ ان کی ہر بات حیرت انگیز اخلاق والی ہوتی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد جب پیغام پارٹی خصوصا شیخ رحمت اللہ صاحب نے مجھے کہا۔کہ میر صاحب! آپ میاں صاحب یعنی خلیفة امسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ) اور اکمل کی پارٹی میں بہت بیٹھا کرتے ہیں۔ذرا پتہ لگائیں کہ یہ بدر میں آجکل کوئل۔بلبل اور فاختہ کیسی اُڑتی ہیں۔اس زمانہ میں قاضی اکمل صاحب کی اس قسم کی اکثر نظمیں شائع ہوتی تھیں۔چنانچہ میں رات دن اس امر کی تلاش میں رہتا کہ مجھے کوئی بات مل جائے تو میں پیغام پارٹی کو اطلاع دوں۔مگر میں جس قدر حضرت میاں صاحب کی صحبت میں رہا كُونُوا مَعَ الصَّادِقِین کا کرشمہ مجھ پر اثر کرتا چلا گیا۔ان لوگوں کا خیال تھا کہ میاں محمود احمد صاحب ، میاں محمد اسحاق صاحب اور قاضی اکمل مل کر کوئی خاص ایجی ٹیشن پھیلا رہے ہیں۔کیونکہ ان دنوں میں میاں محمد الحق صاحب نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ آیا خلیفہ انجمن کے ماتحت ہے یا خلیفہ کے ماتحت انجمن ہے گو میاں محمد اسحاق صاحب کم عمر