سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 741 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 741

سیرت المہدی 741 حصہ سوم خلع کی خواہش مند ہوئی۔خلیفہ رجب دین صاحب لاہوری نے حضرت صاحب کی خدمت میں مسجد مبارک میں یہ معاملہ پیش کیا۔آپ نے فرمایا کہ اتنی جلدی نہیں۔ابھی صبر کرے۔پھر اگر کسی طرح گزارہ نہ ہو تو خلع ہوسکتا ہے۔اس پر خلیفہ صاحب نے جو بہت بے تکلف آدمی تھے حضرت صاحب کے سامنے ہاتھ کی ایک حرکت سے اشارہ کر کے کہا کہ حضور وہ کہتی ہے کہ حافظ صاحب کی یہ حالت ہے۔(یعنی قوتِ رجولیت بالکل معدوم ہے ) اس پر حضرت صاحب نے خلع کی اجازت دیدی۔مگر احتیاطاً ایک دفعہ پھر دونوں کو اکٹھا کیا گیا۔لیکن وہ عورت راضی نہ ہوئی۔بالآخر ضلع ہو گیا۔814 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میر شفیع احمد صاحب محقق دہلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ مستری محمد مکی صاحب پشاوری نے مجھ سے ایک روز بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک خادم پیرا نامی ہوتا تھا۔اس سے حضرت اقدس کی موجودگی میں کسی نے دریافت کیا کہ تو حضرت صاحب کو کیا مانتا ہے ؟ پیرا کہنے لگا کہ تھوڑے دناں توں کہندے ہن کہ میں مسیح آں، یعنی تھوڑے عرصہ سے انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ میں مسیح موعود ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ جواب سن کر مسکرانے لگے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ پیرا ایک پہاڑی ملازم تھا اور بالکل جاہل اور نیم پاگل تھا۔مگر بعض اوقات پتہ کی بات بھی کر جاتا تھا۔چنانچہ ایک دفعہ اس سے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے بٹالہ کے سٹیشن پر کہا کہ تمہارے مرزا صاحب نے مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔جو جھوٹا ہے اور قرآن وحدیث کے خلاف ہے۔پیرے نے جواب دیا۔مولوی صاحب میں تو کچھ پڑھا لکھا نہیں ہوں۔مگر میں اتنا جانتا ہوں کہ لوگوں کو بہکانے کے لئے آپ کی بٹالہ کے سٹیشن پر آ آ کر جوتیاں بھی گھس گئی ہیں مگر پھر بھی دنیا مرزا صاحب کی طرف کھی چلی آتی ہے۔815 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میر شفیع احمد صاحب محقق دہلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ مستری محمد مکی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب کبھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیر کے واسطے تشریف لے جاتے اور بازار میں سے گذرتے تو بعض ہندو دکاندار اپنے طریق پر ہاتھ جوڑ کر حضور علیہ السلام کو سلام