سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 740
سیرت المہدی 740 حصہ سوم یر اندازاً ۱۸۹۵ء یا ۱۸۹۶ء کا یا اس کے قریب کا واقعہ ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس کے بعد وہ دوسرا کنو آں بنا تھا جو مدرسہ احمدیہ کے جانب شمال اور احمد یہ چوک کے پاس ہے۔اس سے پہلے قادیان کی آبادی میں حضرت صاحب کے قبضہ میں صرف مسجد اقصے والا کنواں تھا۔مگر وہ کسی قدر دور تھا اور چند سیڑھیاں چڑھ کر اس تک پہنچنا پڑتا تھا۔812 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ۱۹۰۴ء میں جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مقدمہ کرم دین کی وجہ سے گورداسپور بمعہ اہل وعیال ٹھہرے ہوئے تھے۔ایک دن آپ کی پشت پر ایک پھنسی نمودار ہوئی۔جس سے آپ کو بہت تکلیف ہوئی۔خاکسار کو بلایا اور دکھایا اور بار بار پوچھا کہ یہ کار بنکل تو نہیں۔کیونکہ مجھے ذیا بیطس کی بیماری ہے۔میں نے دیکھ کر عرض کی کہ یہ بال تو ڑیا معمولی پھنسی ہے۔کار بنکل نہیں ہے۔دراصل حضرت صاحب کو ذیا بطیس اس قسم کا تھا جس میں پیشاب بہت آتا ہے مگر پیشاب میں شکر خارج نہیں ہوتی۔اور یہ دورے ہمیشہ محنت اور زیادہ تکلیف کے دنوں میں ہوتے تھے۔اور بکثرت اور بار بار پیشاب آتا تھا۔اور یہ ایک عصبی تکلیف تھی۔اور بہت پیشاب آکر سخت ضعف ہو جاتا تھا۔ایک دفعہ کسی ڈاکٹر نے عرض کیا کہ پیشاب کا ملاحظہ شکر کے لئے کرالینا چاہئے۔فرمانے لگے نہیں۔اس سے تشویش زیادہ ہوگی۔اس خاکسار نے بھی کیمیاوی ملاحظہ نہیں کیا تھا۔مگر ہمیشہ کے حالات دیکھ کر تشخیص کی تھی کہ مرض نروس پالیوریا ہے۔مگر حضرت صاحب کی ایک تحریر سے مجھے علم ہوا ہے کہ ایک دفعہ آپ کے پیشاب میں شکر بھی پائی گئی تھی۔813 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میاں معراج الدین صاحب عمر کے ساتھ ایک نو مسلمہ چوہڑی لاہور سے آئی۔اس کے نکاح کا ذکر ہوا۔تو حافظ عظیم بخش صاحب مرحوم پٹیالوی نے عرض کی کہ مجھ سے کر دیا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اجازت دیدی اور نکاح ہو گیا۔دوسرے روز اس مسماۃ نے حافظ صاحب کے ہاں جانے سے انکار کر دیا اور