سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 736 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 736

سیرت المہدی 736 حصہ سوم خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھے جس زمانہ کا ہوش ہے میں نے آپ کو زیادہ تر اس کمرہ میں رہتے دیکھا ہے جس میں اب حضرت اماں جان رہتی ہیں جو بیت الفکر کے ساتھ شمالی جانب واقع ہے۔809 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب میری پہلی شادی کی تیاری ہوئی تو میں دہلی کے شفا خانہ میں ملازم تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اس کے متعلق خط و کتابت ہوتی تھی۔میں پہلے اس جگہ راضی نہ تھا۔آپ نے مجھے ایک خط میں لکھا کہ اگر تمہیں یہ خیال ہو کہ لڑکی کے اخلاق اچھے نہیں ہیں تو پھر بھی تم اس جگہ کو منظور کر لو۔اگر اس کے اخلاق پسندیدہ نہ ہوئے۔تو میں انشاء اللہ اس کے لئے دعا کروں گا۔جس سے اس کے اخلاق درست ہو جائیں گے۔حضور کے خط کی نقل یہ ہے:۔بسم اللہ الرحمن الرحیم محمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم ۳۱ را گست ۱۹۰۵ء عزیزی میر محمد اسمعیل سلمہ تعالے السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ : میں نے تمہارا خط پڑھا۔چونکہ ہمدردی کے لحاظ سے یہ بات ضروری ہے کہ جو امر اپنے نزدیک بہتر معلوم ہو اس کو پیش کیا جائے۔اس لئے میں آپ کو لکھتا ہوں کہ اس زمانہ میں جو طرح طرح کی بدچلنیوں کی وجہ سے اکثر لوگوں کی نسل خراب ہوگئی ہے۔لڑکیوں کے بارے میں مشکلات پیدا ہوگئی ہیں اور میں دیکھتا ہوں کہ بڑی بڑی تلاش کے بعد بھی اجنبی لوگوں کے ساتھ تعلق پیدا کرنے سے کئی بد نتیجے نکلتے ہیں۔بعض لڑکیاں ایسی ہوتی ہیں کہ ان کے باپ یا دادوں کو کسی زمانہ میں آتشک تھی اور کئی مدت کے بعد وہ مرض ان میں بھی پیدا ہو جاتی ہے۔بعض لڑکیوں کے باپ دادوں کو جذام ہوتا ہے تو کسی زمانہ میں وہی مادہ لڑکیوں میں بھی پیدا ہو جاتا ہے۔بعض میں سل کا مادہ ہوتا ہے۔بعض میں دق کا مادہ اور بعض کو بانجھ ہونے کی مرض ہوتی ہے اور بعض لڑکیاں اپنے خاندان کی بدچلنی کی وجہ سے پورا حصہ تقویٰ کا اپنے اندر نہیں رکھتیں۔ایسا ہی اور بھی عیوب ہوتے ہیں کہ اجنبی لوگوں سے تعلق پکڑنے کے