سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 716 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 716

سیرت المہدی 716 حصہ سوم ۱۹۰۵ء میں ایک خط لکھا تھا۔جس میں یہ تحریر فرمایا تھا۔کہ خدا کا عذاب بالکل سر پر ہے اور گھنٹوں اور منٹوں اور سیکنڈوں میں آنے والا ہے اور لطف یہ ہے کہ پنڈت صاحب اس خط کو پڑھ ہی رہے تھے یا پڑھ کر فارغ ہوئے تھے کہ ۴ را پریل ۱۹۰۵ء والا زلزلہ آ گیا جس نے ضلع کانگڑہ میں خطرناک تباہی مچائی اور ہزاروں انسان ہلاک ہو گئے اور لاکھوں کروڑوں روپے کی جائیداد خاک میں مل گئی۔771 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔شیخ عبدالحق صاحب ساکن وڈالہ بانگر تحصیل وضلع گورداسپور نے مجھے سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ غالباً ۱۹۰۶ء یا ۱۹۰۷ء کا ذکر ہے۔خاکسار راقم تحصیل دار بندوبست کے سرشتہ میں بطور محرر کام کرتا تھا۔چونکہ بندوبست کا ابتداء تھا اور عملہ بندوبست ابھی تھوڑا آیا ہوا تھا۔تحصیلدار بندوبست صرف دو ہی آئے ہوئے تھے۔اس لئے دو تحصیلوں کا کام تحصیلدار صاحبان کے سپر د تھا۔جن تحصیلدارصاحب کے ماتحت خاکسار کام کرتا تھا۔ان کے سپر د تحصیل بٹالہ اور گورداسپور کا کام تھا۔تحصیل بٹالہ میں موضع رتر چھتر المعروف مکان شریف میں ایک بزرگ حضرت امام علی شاہ صاحب گذرے ہیں۔دُور دُور تک لوگ ان کے معتقد ہیں۔اور اکثر دیہات میں آپ کے مریدوں نے بہت کثرت کے ساتھ اپنی اراضیات بزرگ موصوف کے نام منتقل کر دی ہوئی ہیں۔اس وراثت کے متعلق شاہ صاحب مذکور کی اولا د میں باہمی تنازعہ ہو گیا۔جناب میر بارک اللہ صاحب جو ان دنوں گدی نشین تھے۔وہ ایک خاص حصہ رقبہ میں سے بعض وجوہات کے ماتحت اپنے چھوٹے بھائی میر لطف اللہ شاہ صاحب کو حصہ دینا نہیں چاہتے تھے۔اس پر میر لطف اللہ شاہ صاحب نے تقسیم اراضی کا مقدمہ تحصیلدار بندوبست کے محکمہ میں دائر کر دیا۔اس مقدمہ کی پیروی کے لئے دونوں بھائی ہمارے محکمہ میں تاریخ مقررہ پر عموماً آیا کرتے تھے۔اتفاقاً ایک دن جو جمعہ تھا۔تحصیلدار صاحب کا مقام کوٹ ٹو ڈرمل جو قادیان کے قریب ہے ، ہوا۔اور اسی دن شاہ صاحبان کی پیشی تھی۔اس لئے ہر دو صاحبان کوٹ ٹو ڈرمل تشریف لائے۔خاکسار بغرض ادا ئیگی جمعہ باجازت تحصیلدار صاحب قادیان آیا۔اور جمعہ مسجد مبارک میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی معیت میں پڑھا۔جمعہ سے فارغ ہو کر جب حضور گھر تشریف لیجا رہے تھے تو ابھی اسی دروازہ میں تھے جس میں بالعموم