سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 717
سیرت المہدی 717 حصہ سوم آپ مسجد میں تشریف لایا کرتے تھے۔کہ ایک شخص نے عرض کی کہ حضور میر لطف اللہ شاہ مکان شریف والے حضور کی زیارت کے لئے تشریف لائے ہیں۔حضور ا جازت فرما ئیں تو وہ آئیں۔حضور نے اجازت دی۔اور آپ وہیں مسجد مبارک میں اس دریچہ کے ساتھ جو جانب شمالی گوشہ مغربی سے گلی میں کھلتا ہے۔ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔خاکسار کو بھی حضور کے پاس ہی بیٹھنے کا موقعہ مل گیا۔میر لطف اللہ شاہ صاحب تشریف لائے اور حضور کے سامنے جنوبی دیوار کے ساتھ بیٹھ گئے۔اس وقت مسجد مبارک کوچہ کے بالائی حصہ پر ہی واقع تھی اور ابھی اس کی توسیع نہیں ہوئی تھی۔اس لئے اس کا عرض بہت تھوڑا تھا۔حضرت صاحب شمالی دیوار کے ساتھ رونق افروز تھے۔اور شاہ صاحب سامنے جنوبی دیوار کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔حضور نے شاہ صاحب سے دریافت فرمایا۔کہ آپ کس طرح تشریف لائے ہیں۔انہوں نے مقدمہ کا سارا ماجرہ بیان کیا۔اس سارے طویل قصہ کو سُننے کے بعد حضور نے فرمایا۔شاہ صاحب جب انسان دنیا کو چھوڑتا ہے اور مولا کریم کی طرف اس کی توجہ مبذول ہو جاتی ہے تو وہ آگے آگے دوڑتا ہے اور دنیا اس کے پیچھے پیچھے دوڑتی ہے۔لیکن جب انسان خدا سے منہ موڑ لیتا ہے اور دنیا کے پیچھے پڑتا ہے۔تو اس وقت دنیا آگے آگے دوڑتی ہے اور وہ پیچھے پیچھے جاتا ہے۔مطلب حضور کا یہ تھا کہ ایک زمانہ وہ تھا کہ آپ کے بزرگ دنیا سے دل برداشتہ ہو کر خدا کے بن گئے تھے۔تو دنیا کی جائداد میں خود بخود اُن کی طرف آگئیں۔اور اب آپ نے خُدا سے وہ تعلق قائم نہ رکھا اور انہیں جائدادوں پر گر گئے۔تو اب وہی جائدادیں آپ کے لئے نصب العین ہو گئی ہیں۔اور آپ کی ساری توجہ دنیا طلبی میں صرف ہو رہی ہے۔مگر پھر بھی جائدادیں ہاتھ سے نکلی جا رہی ہیں۔اس وقت شاہ صاحب نے عرض کیا کہ حضور میرے لئے دعا کی جائے۔حضور نے دُعا کی اور شاہ صاحب واپس مکان شریف چلے گئے۔اس وقت مسجد میں حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول بھی وہاں موجود تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ رتر چھتر یعنی مکان شریف ڈیرہ بابا نانک کے قریب ہے اور اس وقت اس کے گدی نشین صاحب سلسلہ عالیہ احمدیہ کے سخت مخالف ہیں۔مگر ان میں سے خدا نے ایک نیک وجود احمدیت کو بھی دے رکھا ہے۔میری مراد لیفٹینٹ ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب ہیں۔جو اسی خاندان میں