سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 703 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 703

سیرت المہدی 703 حصہ سوم صفحہ اے پر فرماتے ہیں۔” میری طرف سے ۲۳ را گست ۱۹۰۳ء کو ڈوئی کے مقابل پر انگریزی میں یہ اشتہار شائع ہوا تھا۔جس میں یہ فقرہ ہے کہ ”میں عمر میں ۷۰ برس کے قریب ہوں اور ڈوئی جیسا کہ وہ بیان کرتا ہے پچاس برس کا جوان ہے“۔ان دونوں حوالوں سے نتیجہ نکالتے وقت ایک تیسرا حوالہ بھی جو اسی کے متعلق ہے۔مگر کچھ پہلے کا ہے۔مد نظر رکھنا چاہئے۔اور وہ یہ ہے ”میری عمر غالباً ۶۶ سال سے بھی کچھ زیادہ ہے“۔( ریویوار دوستمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۳۴۶) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وے برس کے قریب سے مراد آپ کی یہ ہے کہ ۶۶ سال سے کچھ زیادہ “اگر اس وقت آپ کی عمر ۶۷ سال مجھی جائے تو تاریخ پیدائش ۱۸۳۵ء بنی۔کتاب البریہ سے جو عبارت سیرۃ المہدی حصہ اول میں نقل کی گئی ہے۔اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔غرض میری زندگی قریب قریب چالیس برس کے زیر سایہ والد بزرگوار کے گذری۔ایک طرف ان کا دُنیا سے اٹھایا جانا اور ایک طرف بڑے زور شور سے سلسلہ مکالمات الہیہ کا مجھے سے شروع ہوا۔“ اس سے معلوم ہوا۔کہ والد بزرگوار کے انتقال کے وقت آپ کی عمر چالیس برس کے قریب تھی اس کی تصدیق اس سے بھی ہوتی ہے کہ سلسلہ مکالمات الہیہ کے شرف کے وقت آپ نے اپنی عمر متعدد مقامات پر چالیس برس بیان فرمائی ہے۔اب دیکھنا چاہئے کہ آپ کے والد ماجد کی وفات کب ہوئی؟ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اپنی تصنیف سیرۃ المہدی حصہ دوم روایت نمبر ۴۷۰ میں آپ کے والد بزرگوار کے انتقال کو ۱۸۷۶ء میں قرار دیا ہے۔لیکن جہاں تک مجھے علم ہے۔اس واقعہ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک تحریر فیصلہ کن ہے اور وہ یہ ہے۔کہ نزول اسیح صفحہ ۱۱۷۔۱۱۸ پر آپ تحریر فرماتے ہیں۔آج تک جو دس اگست ۱۹۰۲ء ہے۔مرزا صاحب مرحوم کے انتقال کو ۲۸ برس ہو چکے ہیں۔گویا یہ واقعہ ۱۸۷۴ء کا ہے۔اس میں سے ۴۰ نکالیں۔تو تاریخ پیدائش ۱۸۳۴ء ثابت ہوتی ہے۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات پر یکجائی نظر ڈالنے سے یہ واضح ہو جاتا ہے۔کہ آپ کی پیدائش ۱۸۳۶ء سے پہلے پہلے ہی ہے۔اس کے بعد یا ۱۸۳۹ءکسی صورت میں بھی صحیح نہیں قرار