سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 702
سیرت المہدی 702 حصہ سوم 66 ایک ضخیم کتاب ہے اس کے صفحہ ۲۰۱ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔” میری عمر اس وقت ۶۸ سال کی ہے۔یہاں ظاہر ہے کہ لفظ ” اس وقت سے کتاب کی تاریخ اشاعت فرض کر لینا نہایت غلط ہو گا۔کیونکہ اشاعت کی تحریر ۱۵ رمئی ۱۹۰۷ ء کتاب پر لکھی ہوئی ہے۔چوتھی بات قابل غور یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام عام طور پر شمسی حساب مد نظر رکھتے تھے یا قمری۔سو اس کے متعلق جہاں تک میں سمجھتا ہوں۔عام طور پر آپ کا طریق اپنی تصانیف اشتہارات اور خطوط میں ملک کے رواج کے مطابق سمسی حساب اور تاریخ کا شمار تھا۔گو قمری سن بھی کہیں کہیں درج کیا گیا ہے۔مگر کثرت سے عموما شمسی طریق کو ہی آپ مد نظر رکھتے تھے۔اس لئے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی عمر کا اندازہ بیان فرمایا ہے۔وہاں شمسی سال ہی مراد لئے جائینگے قمری نہیں۔خواہ کہیں کہیں قمری سن بھی آپ نے بیان فرما دیا ہے۔اب دیکھنا چاہئے کہ بحیثیت مجموعی آپ کی تاریخ پیدائش کہاں تک معین کی جاسکتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔”جب میری عمر ۴۰ برس تک پہنچی تو خدا تعالیٰ نے اپنے الہام اور کلام سے مجھے مشرف فرمایا۔دوسری جگہ فرماتے ہیں۔” ٹھیک ۱۲۹۰ھ میں خدا تعالے کیطرف سے یہ عاجز شرف مکالمه مخاطبہ پاچکا تھا۔“ (حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۹۹) گویا کہ۱۲۹۰ھ میں آپ کی عمر چالیس برس ہو چکی تھی۔آپ کی وفات ۱۳۲۶ء میں ہوئی۔گویا قمری حساب سے پورے۳۶ برس آپ شرف مکالمہ مخاطبہ الہیہ سے ممتاز رہے اور شمسی حساب سے ۳۵ سال۔اس طرح آپ کی تاریخ پیدائش ۱۸۳۳ء ثابت ہوئی۔ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحه ۹۷ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔” میری عمر ۷۰ برس کے قریب ہے۔یہ کتاب اندرونی شہادت سے ثابت ہے۔کہ ۱۹۰۵ء میں لکھی گئی۔( سید احمد علی صاحب نے جو حوالہ اس ضمن میں دیا ہے وہ درست نہیں۔گود وسرے مقامات سے یہ ثابت ہے ) اس لئے آپ کی تاریخ پیدائش ۱۸۳۵ء معلوم ہوئی۔ریویو بابت نومبر، دسمبر ۱۹۰۳ء صفحه ۴۷۹ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔” میری عمر ۷۰ سال کے قریب ہے۔حالانکہ ڈوئی صرف ۵۵ سال کی عمر کا ہے۔اسی طرح تتـمـه حقیقة الوحی