سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 63
سیرت المہدی 63 حصہ اوّل نے قادیان بلالیا اور شیخ مہرعلی رئیس ہوشیار پور کو خط لکھا کہ میں دو ماہ کے واسطے ہوشیار پور آنا چاہتا ہوں کسی ایسے مکان کا انتظام کر دیں جو شہر کے ایک کنارے پر ہو اور اس میں بالا خانہ بھی ہو۔شیخ مہر علی نے اپنا ایک مکان جو طویلہ کے نام سے مشہور تھا خالی کروا دیا۔حضور پہلی میں بیٹھ کر دریا بیاس کے راستہ تشریف لے گئے۔میں اور شیخ حامد علی اور فتح خان ساتھ تھے۔میاں عبداللہ صاحب کہتے تھے کہ فتح خاں رسول پور متصل ٹانڈ ضلع ہوشیار پور کا رہنے والا تھا اور حضور کا بڑا معتقد تھا مگر بعد میں مولوی محمد حسین بٹالوی کے اثر کے نیچے مرتد ہو گیا۔حضور جب دریا پر پہنچے تو چونکہ کشتی تک پہنچنے کے رستہ میں کچھ پانی تھا اس لئے ملاح نے حضور کو اُٹھا کر کشتی میں بٹھایا جس پر حضور نے اسے ایک روپیہ انعام دیا۔دریا میں جب کشتی چل رہی تھی حضور نے مجھ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ میاں عبداللہ کامل کی صحبت اس سفر دریا کی طرح ہے جس میں پار ہونے کی بھی امید ہے اور غرق ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔میں نے حضور کی یہ بات سرسری طور پر سنی مگر جب فتح خان مرند ہوا تو مجھے حضرت کی یہ بات یاد آئی۔خیر ہم راستہ میں فتح خان کے گاؤں میں قیام کرتے ہوئے دوسرے دن ہوشیار پور پہنچے۔وہاں جاتے ہی حضرت صاحب نے طویلہ کے بالا خانہ میں قیام فرمایا اور اس غرض سے کہ ہمارا آپس میں کوئی جھگڑا نہ ہو ہم تینوں کے الگ الگ کام مقرر فرما دئیے۔چنانچہ میرے سپر دکھانا پکانے کا کام ہوا۔فتح خان کی یہ ڈیوٹی لگائی گئی کہ وہ بازار سے سودا وغیرہ لایا کرے۔شیخ حامد علی کا یہ کام مقرر ہوا کہ گھر کا بالائی کام اور آنے جانے والے کی مہمان نوازی کرے۔اس کے بعد حضرت مسیح موعود نے بذریعہ دستی اشتہارات اعلان کر دیا کہ چالیس دن تک مجھے کوئی صاحب ملنے نہ آویں اور نہ کوئی صاحب مجھے دعوت کے لئے بلائیں۔ان چالیس دن کے گذرنے کے بعد میں یہاں ہمیں دن اور ٹھہروں گا۔ان ہیں دنوں میں ملنے والے ملیں۔دعوت کا ارادہ رکھنے والے دعوت کر سکتے ہیں اور سوال و جواب کرنے والے سوال جواب کر لیں۔اور حضرت صاحب نے ہم کو بھی حکم دے دیا کہ ڈیوڑھی کے اندر کی زنجیر ہر وقت لگی رہے اور گھر میں بھی کوئی شخص مجھے نہ بلائے۔میں اگر کسی کو بلاؤں تو وہ اسی حد تک میری بات کا جواب دے جس حد تک کہ ضروری ہے اور نہ اوپر بالا خانہ میں کوئی میرے پاس آوے۔میرا کھانا او پر پہنچا دیا جاوے مگر اس کا انتظار نہ کیا جاوے کہ میں کھانا کھالوں۔خالی برتن پھر دوسرے وقت لے جایا کریں۔نماز میں اوپر الگ پڑھا