سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 64 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 64

سیرت المہدی 64 حصہ اوّل کروں گا تم نیچے پڑھ لیا کرو۔جمعہ کے لئے حضرت صاحب نے فرمایا کہ کوئی ویران سی مسجد تلاش کرو جو شہر کےایک طرف ہو جہاں ہم علیحدگی میں نماز ادا کر سکیں۔چنانچہ شہر کے باہر ایک باغ تھا اس میں ایک چھوٹی سی ویران مسجد تھی وہاں جمعہ کے دن حضور تشریف لے جایا کرتے تھے اور ہم کو نماز پڑھاتے تھے اور خطبہ بھی خود پڑھتے تھے۔میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے تھے کہ میں کھانا چھوڑ نے اوپر جایا کرتا تھا اور حضور سے کوئی بات نہیں کرتا تھا مگر کبھی حضور مجھ سے خود کوئی بات کرتے تھے تو جواب دے دیتا تھا۔ایک دفعہ حضرت صاحب نے مجھ سے فرمایا۔میاں عبداللہ ! ان دنوں میں مجھ پر بڑے بڑے خدا تعالیٰ کے فضل کے دروازے کھلے ہیں اور بعض اوقات دیر دیر تک خدا تعالیٰ مجھ سے باتیں کرتا رہتا ہے۔اگر ان کو لکھا جاوے تو کئی ورق ہو جاویں۔چنانچہ میاں عبداللہ صاحب کہتے ہیں کہ پسر موعود کے متعلق الہامات بھی اسی چلہ میں ہوئے تھے اور بعد چلّہ کے ہوشیار پور سے ہی آپ نے اس پیشگوئی کا اعلان فرمایا تھا ( خاکسار عرض کرتا ہے ملاحظہ ہو اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء) جب چالیس دن گذر گئے تو پھر آپ حسب اعلان میں دن اور وہاں ٹھہرے۔ان دنوں میں کئی لوگوں نے دعوتیں کیں اور کئی لوگ مذہبی تبادلہ خیالات کے لئے آئے اور باہر سے حضور کے پرانے ملنے والے لوگ بھی مہمان آئے۔انہی دنوں میں مرلی دھر سے آپ کا مباحثہ ہوا جو سرمہ چشم آریہ میں درج ہے۔جب دو مہینے کی مدت پوری ہو گئی تو حضرت صاحب واپس اسی راستہ سے قادیان روانہ ہوئے۔ہوشیار پور سے پانچ چھ میل کے فاصلہ پر ایک بزرگ کی قبر ہے جہاں کچھ باغیچہ سالگا ہوا تھا۔وہاں پہنچ کر حضور تھوڑی دیر کیلئے بہلی سے اُتر آئے اور فرمایا یہ عمدہ سایہ دار جگہ ہے یہاں تھوڑی دیر ٹھہر جاتے ہیں۔اس کے بعد حضور قبر کی طرف تشریف لے گئے میں بھی پیچھے پیچھے ساتھ ہو گیا اور شیخ حامد علی اور فتح خان بہلی کے پاس رہے۔آپ مقبرہ پر پہنچ کر اس کا دروازہ کھول کر اندر گئے اور قبر کے سرہانے کھڑے ہو کر دعا کے لئے ہاتھ اُٹھائے اور تھوڑی دیر تک دعا فرماتے رہے پھر واپس آئے اور مجھ سے مخاطب ہو کر فرمایا ” جب میں نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو جس بزرگ کی یہ قبر ہے وہ قبر سے نکل کر دوزانو ہو کر میرے سامنے بیٹھ گئے اور اگر آپ ساتھ نہ ہوتے تو میں ان سے باتیں بھی کر لیتا۔ان کی آنکھیں موٹی موٹی ہیں اور رنگ سانولا ہے، پھر کہا کہ دیکھو اگر یہاں کوئی مجاور ہے تو اس سے ان کے